تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایرانی پاسداران انقلاب آئل ٹینکر"ایڈریان ڈاریا"کو لیز پر لینے کیلیے متحرک
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 19 ذوالحجہ 1440هـ - 21 اگست 2019م KSA 14:51 - GMT 11:51
ایرانی پاسداران انقلاب آئل ٹینکر"ایڈریان ڈاریا"کو لیز پر لینے کیلیے متحرک
دبئی – العربیہ ڈاٹ نیٹ

ایرانی نیوز ایجنسی ILNA نے بدھ کے روز بتایا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب تنظیم اس وقت "ایڈریان ڈاریا " آئل ٹینکر کو لیز پر لے رہی ہے۔ اس ٹینکر (سابقہ نام گریس 1) کو چار جولائی کو جبل طارق کے حکام نے تحویل میں لینے کے بعد حال ہی میں چھوڑا ہے۔

ایجنسی نے رائٹرز کے حوالے سے بتایا ہے کہ کوریا کا بنا ہوا یہ آئل ٹینکر روس کی ملکیت میں ہے اور اس وقت ایک ایرانی پاسداران انقلاب تنظیم اسے لیز پر حاصل کر رہی ہے۔

یاد رہے کہ امریکا نے جمعے کے روز مذکورہ تیل بردار جہاز کو تحویل میں رکھنے کی ہدایت جاری کی تھی کیوں کہ واشنگٹن کے نزدیک اس کے ایرانی پاسداران انقلاب کے ساتھ تعلقات ہیں جب کہ امریکا پاسداران کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ ایرانی تیل بردار جہاز نے امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شام کا رخ کیا تو امریکا اسے روکنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گا۔ منگل کے روز صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے پومپیو نے کہا کہ "ہم واضح کر چکے ہیں کہ کسی نے بھی اس (جہاز) کو چُھوا، یا سپورٹ کیا اور یا پھر کسی نے بھی اسے لنگر انداز ہونے کی اجازت دی تو اسے امریکی پابندیوں کا نشانہ بننا پڑے گا"۔

دوسری جانب یونان کے سمندری تجارت کے وزیر یوانیس بلاکیوتیکیز نے منگل کے روز بتایا کہ حال ہی میں جبل طارق سے روانہ ہونے والے تیل بردار جہاز "ایڈریان ڈاریا" نے یونان کی کسی بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے کی درخواست نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ جہاز کے روٹ کو نظر میں رکھا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں یونی وزارت خارجہ کے ساتھ رابطہ کاری جاری ہے۔

اس سے قبل میرین ٹریفک ویب سائت نے یہ بتایا تھا کہ جبل طارق کے حکام کے ہاتھوں چار جولائی کو تحویل میں لیا جانے والا تیل بردار جہاز منگل کے روز الجزائر کے شہر وہران کے شمال مغرب میں واقع ساحلوں سے تقریبا 100 کلو میٹر کی دوری پر موجود ہے۔

مذکورہ ویب سائٹ کے مطابق یہ جہاز یونان کے جزیرے کالا ماتا کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہو سکتا ہے۔ تاہم علاقے میں بندرگاہوں کی انتظامیہ کے حکام نے اس معلومات کی تصدیق نہیں کی۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند