تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایران نے انتہائی پیچیدہ میزائل چھپا رکھے ہیں:نائب وزیر دفاع
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 16 محرم 1441هـ - 16 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 22 ذوالحجہ 1440هـ - 24 اگست 2019م KSA 07:24 - GMT 04:24
ایران نے انتہائی پیچیدہ میزائل چھپا رکھے ہیں:نائب وزیر دفاع
لندن ۔ صالح حمید

ایران کے نائب وزیر دفاع قاسم تقی زادہ نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے انتہائی پیچیدہ نوعیت کے تباہ کن میزائل تیار کررکھے ہیں مگردشمن کو سرپر ائز دینے کے لیے انہیں منظرعام پرنہیں لایا گیا۔ ان میزائلوں کا حال ہی میں کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے' فارس' کے مطابق شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد میں نماز جمعہ کے اجتماع سے قبل کہا کہ ایران اپنی تمام دفاعی کامیابیاں ذرائع ابلاغ کے سامنے نہیں لاتا۔ ہم بہت سی چیزیں چھپا کررکھتے ہیں تاکہ وقت آنے پر دشمن کو حیران کیا جاسکے۔

قاسم تقی زادہ کا کہنا تھا کہ ایران نے انتہائی پیچیدہ میزائل تیار کررکھے ہیں۔ اگرچہ ان رینج زیادہ دور تک نہیں مگر وہ انتہائی تباہ کن ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے مقامی سطح پر پیچیدہ میزائل تیار کرنے کے بعد مسلح افواج کے حوالے کردیے ہیں۔ ہم نے اپنا دفاعی اسلحہ میدان میں پہنچا دیا ہے۔

قاسم تقی زادہ کا کہنا تھا کہ ایران کا جدید دفاعی نظام اپنی مثال آپ اور دنیا میں اس کی مثل کوئی دوسرا دفاعی نظام نہیں۔ یہ نظام کسی دوسرے ملک کی مدد یا غیرملکی اسلحے کی نقل میں تیار نہیں کیا گیا بلکہ اس کا سارا کام مقامی سطح پر ہوا ہے۔

خیال رہےکہ ایران کا میزائل پروگرام تہران اور مغرب کے درمیان تنازع کا باعث بنا ہوا ہے۔ امریکا نے ایران کے میزائل پروگرام پرتہران پر اقتصادی پابندیاں عاید کررکھی ہیں۔ امریکا ایران کے ساتھ سنہ 2015ء میں طے پائے جوہری معاہدے سے الگ ہوچکا ہے اور اس وقت تہران اور واشنگٹن کے درمیان سخت کشیدگی پائی جا رہی ہے۔

ایرانی نائب وزیردفاع نے کہا کہ انتہائی پیچیدہ میزائلوں کی ہدف کو مار کرنے کی صلاحیت 1800 کلو میٹر تک ہے۔آنے والے وقت ہیں ایران پیچیدہ نوعیت کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل تیار کرے گا۔

دوسری طرف امریکا ایران پر سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کا الزما عاید کرتا ہے۔ امریکا کا کہنا ہے کہ ایران کا میزائل ٹیکنالوجی کے پروگرام کو اپ گریڈ کرکے سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی کھلی خلاف ورزی کررہا ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند