تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
عراق میں امریکی فوج 'حرام' ایرانی فتوے نے نیا تنازع کھڑا کر دیا
شیعہ عالم دین کا عراق میں امریکی فوج کے خلاف لڑنے کا فتویٰ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 23 محرم 1441هـ - 23 ستمبر 2019م
آخری اشاعت: اتوار 23 ذوالحجہ 1440هـ - 25 اگست 2019م KSA 16:59 - GMT 13:59
عراق میں امریکی فوج 'حرام' ایرانی فتوے نے نیا تنازع کھڑا کر دیا
شیعہ عالم دین کا عراق میں امریکی فوج کے خلاف لڑنے کا فتویٰ
كاظم الحائري
دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

ایران کے ایک سرکردہ شیعہ عالم دین کی جانب سے عراق میں امریکی فوج کی موجودگی کوحرام قرار دیے جانے سے متعلق فتویٰ نما بیان کے پر عراق کے مذہبی اور سیاسی حلقوں میں ایک نیا طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ ایرانی شیعہ عالم دین آیت اللہ کاظم حسین الحائری کے فتوے کی جہاں بہت سے حلقوں کی طرف سے مخالفت کی جا رہی ہے وہیں عراق کے سخت گیر شیعہ شدت پسندوں نے اس کی بھرپور حمایت اور تائید بھی کی ہے۔

حال ہی میں سامنے آنے والے اس فتوے میں آیت اللہ کاظم الحائری نے عراق میں امریکی فوج کی موجودگی کو حرام قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف لڑنے کی ترغیب دی ہے۔

عراق کے شیعہ سیاسی حلقے جو کسی حد ایران کے حامی بھی ہیں کی طرف سے بھی کاظم حرائری کے فتوے پر تنقید کی جا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایران میں بیٹھ کر عراق میں امریکی فوج کی موجودگی کو حرام قرار دینا عراق کے اندرونی سیاسی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے۔ عراق کی دینی قیادت جن میں آیت اللہ علی سیستانی کے پائے کے ممتاز علماء کرام، عراقی پارلیمنٹ کے ارکان اور ملک میں موجود دیگر سرکردہ مذہبی قیادت کی طرف سےعراق میں امریکی فوج کی موجودگی کو حرام نہیں قراردیا گیا۔ ایران میں کوئی عالم دین ایسا کیوں کر کرسکتا ہے۔

ایران کے سخت گیر شیعہ مذہبی رہ نما کاظم حرائری کا یہ پہلا متنازع فتویٰ نہیں بلکہ وہ ماضی میں بھی اس طرح کے فتوے صادر کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے سنہ 1980ء سے 1988ء کے دوران عراق ۔ ایران جنگ کے عرصے میں گرفتار کیے گئے عراقی فوجیوں پر تشدد کرنے اور ان کے کھانے میں زہرملانے کی اجازت دی تھی۔ اسی طرح سنہ 2003ء میں عراق میں ہونے والے انتخابات میں انہوں نے سیکولر سیاست دانوں کو ووٹ دینا حرام قرار دیا تھا۔

صاحب فتویٰ کون؟

آیت اللہ علی حسین کاظم الحائری ایک عمر رسیدہ شیعہ عالم ہیں۔ انہیں ایران میں اہل تشیع کے ہاں مفتی کا مقام حاصل ہے اور وہ ایران میں ولایت فقیہ کے حوالے سے اکثر اپنے فتوے صادر کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے اخوان المسلمون کے مرشد عام کی طرز پر ایک مذہبی سیاسی جماعت تشکیل دی جسےاسلامی دعوہ پارٹی کا نام دیا گیا۔ بعد ازاں انہوں نے اسے آفندیہ جماعت میں تبدیل کردیا۔

انہوں نے اپنے فتوے پر تنقید کو مسترد کردیا ہے۔ عراق کے حوالے سے تازہ فتوے پر تنقید کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ان کا بیان عراق کی خود مختاری اور استحکام وسلامتی کے دفاع کے لیے ہے۔ میرے بیان کو غلط رنگ دینے والے یا تو ہماری قوم کے مفادات سے لاعلم ہیں یا وہ دانستہ طورپر دشمن کی کشتی پر سوار ہیں۔

عراق کے سرکردہ شیعہ رہ نما مقتدیٰ الصدر کی طرف سے ایرانی عالم دین کے بیان پرحمایت کی توقع کی جاسکتی ہے مگر فی الحال مقتدیٰ الصدر کی طرف سے کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا گیا۔ ان کی جماعت کے ترجمان سے اس بارے میں استفسار کیا گیا تو انہوں نے اس پرکوئی رد عمل دینے سے معذرت کی۔

مقتدیٰ الصدر کے پیروکاروں کا خیال ہے کہ ایرانی عالم دین کاظم حرائری کا بیان کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ الصدری حرائر پرتنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایرانی عالم دین کی طرف سے سنہ 2006ء اور 2008ء کےدوران عراق میں ہونے والی لڑائی میں ان کی مدد نہیں کی گئی۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند