تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
فلاشا یہودیوں کے احتجاجی مظاہروں کے تناظر میں ایتھوپیائی وزیراعظم کا دورۂ اسرائیل
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 29 جمادی الثانی 1441هـ - 24 فروری 2020م
آخری اشاعت: اتوار 1 محرم 1441هـ - 1 ستمبر 2019م KSA 20:44 - GMT 17:44
فلاشا یہودیوں کے احتجاجی مظاہروں کے تناظر میں ایتھوپیائی وزیراعظم کا دورۂ اسرائیل
ایتھوپیا کے وزیراعظم ابی احمد
دبئی ۔ عبدالعزیز ابراہیم

اسرائیل میں ایتھوپیا کی فلاشا نسل کے یہودیوں کے نسلی پرستی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے تناظر میں افریقی ملک ایتھوپیا کے وزیراعظم آبی احمد سرکاری دورے پر تل ابیب پہنچے ہیں۔ اپریل 2018ٰء میں اقتدار پر فائز ہونے والے ابی احمد کا اسرائیل کا یہ پہلا دورہ ہے۔

آبی احمد اپنے اسرائیلی ہم منصب بنجمن نیتن یاھو اور صہیونی ریاست کے صدر روئوفین ریفلین سے ملاقات کریں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیل اور ایتھوپیا کے درمیان دیرینہ دوطرفہ سفارتی تعلقات ہیں۔ ایتھوپیا نے سنہ 1950ء کے عشرے میں اسرائیل کوتسلیم کرلیا تھا مگر دونوں ملکوں کے درمیان سنہ 1984ء میں دوطرفہ تعلقات میں اس وقت ڈرامائی تبدیلی آئی جب ایتھوپیا کے صدر مانگسٹو ہایلی مریام نے فلاشا نسل کے یہودیوں کو اسرائیل منتقل کرنے کی اجازت دے دی۔

دو ماہ قبل اسرائیلی پولیس نےفلاشا نسل کے ایک سیاہ فام یہودی کو گولیاں مار کرہلاک کردیا تھا تو پورے ملک میں فلاشا یہودیوں نے پرتشدد احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔ اس وقت اسرائیل میں فلاشا یہودیوں کی آبادی ایک لاکھ 40 ہزار ہے جن میں 50 ہزار اسی ملک میں پیدا ہوئے ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند