تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سعودی عرب میں زندگی کے خوب صورت ترین لمحے گزار کر لوٹنے والا پاکستانی نوجوان
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 23 صفر 1441هـ - 23 اکتوبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 10 محرم 1441هـ - 10 ستمبر 2019م KSA 16:45 - GMT 13:45
سعودی عرب میں زندگی کے خوب صورت ترین لمحے گزار کر لوٹنے والا پاکستانی نوجوان
العربیہ ڈاٹ نیٹ – ناديہ الفواز

پاکستانی نوجوان امجد عبدالمجید نے پیدائش سے لے کر 16 برس تک کی عمر سعودی عرب میں گزاری۔ وہ مملکت سے اپنی محبت کی داستان یوٹیوب پر اپنے چینل کے ذریعے لوگوں کے سامنے بیان کرتے نظر آتے ہیں۔ مملکت میں گزارے ہوئے وقت کی یادیں سعودی لہجے میں بیان کرنے والے امجد کی وڈیوز کو عوامی سطح پر مقبولیت حاصل ہو گئی ہے۔

امجد کی جانب سے بیان کی جانے والی تفصیلات میں سعودی عرب میں ان کی آخری صبح کے متعلق مناظر اور گفتگو، مکہ مکرمہ کی سڑکوں پر بتائے گئے آخری لمحات، حرم مکی میں بیت اللہ کا آخری طواف اور جدہ ایئرپورٹ سے روانگی سے لے کر پاکستان کی سرزمین پہنچنے تک کا قصہ شامل ہے۔ امجد کی کار گزاری سوشل میڈیا پر فالوورز کے لیے کافی دل چسپی کا سامان رکھتی ہے۔ امجد کے چینل کے سبسکرائبرز کی تعداد 1.9 لاکھ افراد ہو چکی ہے جب کہ سعودی عرب سے رخصت ہونے والے وڈیو کلپ کو اب تک 1.2 کروڑ سے زیادہ مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔

امجد عبدالمجید کو توقع نہیں تھی کہ سعودی عرب میں ایک پاکستانی کی زندگی پر روشنی ڈالنے والی ان تفصیلات کو یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فالوورز کی اتنی بڑی تعداد کی پذیرائی حاصل ہو گی۔

پاکستانی نوجوان امجد کی پیدائش سعودی عرب میں ہوئی۔ اس نے مکہ اور جدہ میں اپنی زندگی گزاری۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے امجد نے بتایا کہ "والد کے فیصلے پر جب میں نے سعودی عرب چھوڑا تو اس وقت میری عمر 16 برس تھی۔ میں نے مملکت میں تربیت پائی اور وہاں اپنی زندگی کے خوب صورت ترین لمحات گزارے۔ میں نے وہاں عربی زبان سیکھی۔ میرے والد 40 برس سے زیادہ عرصے سے مکہ مکرمہ میں مقیم ہیں۔ اس مقام کی اور وہاں گزارے جانے والے بچپن کی بہت زیادہ یادیں ہیں جو ساری عمر میری یادداشت میں محفوظ رہیں گی۔ وہاں میرے دوست اور رشتے دار ہیں۔ ہم ہر سال عمرہ کرنے جایا کرتے تھے۔ میں نے پاکستانی انٹرنیشنل اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ میں نے حجازی لہجے میں عربی بولنا سیکھا ،، وہاں کے عوامی کھانوں سے لطف اندوز ہوا اور سعودی لباس یعنی لمبے جبّہ اور شماغ (سر پر رکھا جانے والا رومال) کا عادی بن گیا"۔

امجد کا کہنا ہے کہ "پاکستان واپس آنے پر میری زندگی مکمل طور پر تبدیل ہو گئی۔ میں نے اپنی زندگی میں شامل بہت سی چیزوں کو کھو دیا۔ پاکستان میں 4 ماہ گزارنے کے بعد حالات نے مجھے پڑھائی کا سلسلہ منقطع کر دینے پر مجبور کر دیا۔ اس پر میں نے فارغ بیٹھے کے بجائے 16 بکرے خرید لیے تا کہ ان کی دیکھ بھال کا کام کروں۔ اس کے علاوہ میں مسجد میں اذان بھی دیتا ہوں"۔

امجد نے مزید بتایا کہ "میں اس وقت پاکستان کے ایک گاؤں میں رہتا ہوں مگر میرا آدھا دل پاکستانی اور آدھا سعودی ہے۔ میری خواہش ہے کہ میں پھر سے سعودی عرب لوٹ جاؤں۔ میں سوشل میڈیا کے ذریعے متعلقین کو ہمیشہ کہتا ہوں کہ جلد ہی اپنی پرورش کے ملک لوٹ آؤں گا"۔

امجد نے واضح کیا کہ سعودی ثقافت بہت خوب صورت ہے اور سعودی معاشرے میں رہنے والا اس سے متاثر ہوتا ہے۔ امد کے مطابق پاکستان پہنچنے پر وہ ایسا اسٹور تلاش کیا کرتا تھا جہاں سعودی مصنوعات اور سعودی کھانے پیش کیے جاتے ہوں۔

عید کے روز امجد نے سعودی جبّہ (ثوب) اور سر پر رومال (غترہ) پہنا۔ وہ کیمرا لے کر پاکستان میں سڑک پر نکل گیا اور ہم وطن شہریوں سے پوچھنے لگا کہ "آپ سعودی عرب کے بارے میں کیا جانتے ہیں"؟ ... اس پر جو براہ راست جوابات اور بے ساختہ جذبات سامنے آئے ان کا محور یہ تھا "مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ ، پٹرول ، کھجور اور قہوہ، اچھے قوم اور عالم اسلام کا دارالخلافہ وغیرہ"۔

امجد عبدالمجید کے نزدیک سعودی اور پاکستانی عوام کے بیچ کئی مشترکہ صفات ہیں جن میں جود و کرم اور سماجی اور خاندانی روح شامل ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند