تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
شہزادہ خالد کی یمن کے صدر سے ملاقات، آئینی حکومت کے لیے سعودی حمایت کی یقین دہانی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 5 ربیع الاول 1442هـ - 22 اکتوبر 2020م
آخری اشاعت: ہفتہ 14 محرم 1441هـ - 14 ستمبر 2019م KSA 09:12 - GMT 06:12
شہزادہ خالد کی یمن کے صدر سے ملاقات، آئینی حکومت کے لیے سعودی حمایت کی یقین دہانی
سعودی نائب وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی
العربیہ ڈاٹ نیٹ ۔ اوسان سالم

سعودی عرب کے نائب وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے عبدالعزیز نے جمعے کے روز ریاض میں یمنی صدر عبدربہ منصور ہادی سے ملاقات کی۔

سعودی خبر رساں ایجنسی SPA کے مطابق ملاقات میں شہزادہ خالد نے باور کرایا کہ یمن میں امن و سلامتی اور استحکام کو یقینی بنائے جانے تک سعودی عرب صدر عبدربہ منصور ہادی کے زیر قیادت یمن اور اس کی آئینی حکومت کی سپورٹ کے موقف پر ثابت قدم رہے گا۔ یہ پیش رفت خلیجی منصوبے، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور یمنی قومی مکالمے کے اعلامیے کے تحت عمل میں آنی چاہیے۔ یمن کا امن مملکت کے امن کا جزو لا ینفک ہے۔ سعودی عرب ،،، ایران نواز حوثی ملیشیا کی بغاوت کا سامنا کرنے اور یمن کی وحدت، امن اور استحکام برقرار رکھنے کے سلسلے میں یمنی حکومت کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔

اس موقع پر شہزادہ خالد نے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سے نیک تمانؤں کا پیغام یمنی صدر کو پہنچایا۔

دوسری جانب یمنی صدر عبدربہ منصور ہادی نے باور کرایا کہ ایرانی توسیعی منصوبے سے نمٹنے اور یمن اور اس کی آئینی حکومت اور امن و استحکام کو سپورٹ کرنے کے سلسلے میں یمن اور سعودی عرب کے درمیان دائمی تزویراتی موافقت پائی جاتی ہے۔

سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ہادی کا کہنا تھا کہ مملکت سعودی عرب نے مخلصانہ تعاون اور سچی اخوت کا مظاہرہ کیا ہے۔ مملکت ہمیشہ سے یمنی عوام کے ساتھ کھڑی ہوئی ہے اور عزم و ہمت کے پیکر شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی قیادت میں فوجی آپریشنوں کے دوران یمن کی خاطر قربانیاں اور اپنا خون پیش کیا گیا۔

ملاقات کے دوران یمن میں سعودی سفیر محمد سعید آل جابر، یمن کے نائب صدر علی محسن صالح، یمنی وزیراعظم معین عبدالملک، نائب وزیراعظم سالم الخنبشی اور یمنی صدارتی بیورو کے سربراہ عبداللہ العلیمی بھی موجود تھے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند