تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
امریکی مفادات پر حملے کی تیاری، جنرل سلیمانی کا خفیہ دورہ عراق
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 19 صفر 1441هـ - 19 اکتوبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 18 محرم 1441هـ - 18 ستمبر 2019م KSA 16:16 - GMT 13:16
امریکی مفادات پر حملے کی تیاری، جنرل سلیمانی کا خفیہ دورہ عراق
پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی
دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

عراق کے ذرائع ابلاغ نے خبر دی ہے ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی نے رواں ہفتے خفیہ طور پر بغداد کا دورہ کیا ہے اور عراقی ملیشیا کے رہ نماؤں سے ملاقات کی ہیں۔

عراق سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق جنرل قاسم سلیمانی نے 'الحشد الشعبی' کے سربراہ فالح الفیاض، البنا ملیشیا کے سربراہ اور رکن پارلیمنٹ ھادی العمری اور الحشد کے نائب امیر ابو مہدی المہندس سے ملاقاتیں کیں۔

عراقی میڈیا نے بتایا کہ سلیمانی نے عراقی ملیشیا کے رہ نماؤں سے عراق میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کی اپیل کی۔

دوسری طرف ایران سے وابستہ عراقی ملیشیاؤں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے خلاف تنقید میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ عراقی رکن پارلیمنٹ عدنان ظرفی نے اسلامی مزاحمتی دھڑوں کی ملیشیائوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عراق ملیشیائوں کی مقبوضہ ریاست نہیں بن سکتا۔

عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے 'آرامکو' کی تیل تنصیبات پر حملوں کے لیے عراق کی سرزمین استعمال کیے جانے سے متعلق خبروں کے جواب میں کہا کہ عراق اپنے ہمسایہ ممالک اور بھائیوں اور دوستوں پر جارحیت کے لئے اپنے زمین کو استعمال کرنے کی کسی صورت میں اجازت نہیں دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ عراق کی سرزمین کو پڑوسی ملکوں پر حملوں کے لیے استعمال کرنے والے عناصر سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

دوسری جانب عراقی صدر برہم صالح نے خطے میں پائے جانے والے تناؤ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ "جیسے حالات عراق کو درپیش رہے ہیں کسی دوسرے ملک کو ایسے حالات پیش نہیں آئے۔۔ ان حالات کا تقاضا ہے کہ ہرایک اپنے حصے کی ذمہ داری قبول کرے۔ موجودہ بحران کو ہمیں مسائل کے حل کے لیے ایک بڑا موقع سمجھنا چاہیے۔ عراق کو علاقائی مفادات کے لیے ہونے والی لڑائی کا میدان نہیں بننے دیں گے۔

لیکن ان بیانات کو عراق میں سرگرم کئی ملیشیاؤں نے مسترد کردیا ہے۔ وزیر اعظم عادل عبدالمہدی کی طرف سے تمام عسکری گروپوں کو غیر مسلح کرنے کی کوششیں بار آورثابت نہیں ہوئیں کیونکہ عراق میں بہت سے گروپ اس وقت بھی مسلح ہیں اور عسکری سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند