تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایرانی عہدے دار کا انتخابات میں 'گندا پیسہ' استعمال کرنے کا اعتراف
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 20 صفر 1441هـ - 20 اکتوبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 23 محرم 1441هـ - 23 ستمبر 2019م KSA 07:15 - GMT 04:15
ایرانی عہدے دار کا انتخابات میں 'گندا پیسہ' استعمال کرنے کا اعتراف
عباس کدخدائی۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ ۔ صالح حمید

ایران کی گارڈین کونسل کے ترجمان عباس کدخدائی نے کہا ہے کہ "گندا پیسہ" ایران میں انتخابات کے نتائج کا تعین کرتا ہے۔ ان کا یہ بیان ایران میں ہونے والے انتخابات کے پانچ ماہ بعد سامنے آیا ہے۔

ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی "ایسنا" کے مطابق ہفتے کے روز ایک بیان میں مسٹر کدخدائی نے افسوس کا اظہار کیا کہ ملک میں گندا پیسہ انتخابات میں استعمال کرنے کی روک تھام کا کوئی قانون موجود نہیں۔

خیال رہے کہ ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے قریبی بنیاد پرست 12 مقربین دستوری کونسل میں شامل ہیں۔ان میں سے چھ کو انسانی حقوق گروپ اور چھ کو برہ راست خامنہ ای کی طرف سے متعین کیا جاتا ہے۔ اصلاح پسند سیاستدان اس کونسل کو ملک میں کسی بھی طرح کی اصلاحات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ کے طور پر دیکھتے ہیں۔

اس کونسل کو ریاست میں وسیع تر اختیارات حاصل ہیں۔ یہ کونسل ایرانی سیاسی اسٹیبلشمنٹ کے ایک اعلی قانون ساز ادارے کی حیثیت سے قانون سازی، انتخابات کی نگرانی اور امیدواروں کی اہلیت کی جانچ پڑتال کی ذمہ دار سمجھی جاتی ہے۔

اس سے قبل پارلیمنٹ اور صدارتی انتخابات میں بے تحاشہ رقم خرچ کرنے کی متعدد اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ ایران میں حزب اختلاف کی قوتوں کو آزادانہ طور پر انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ ولایت فقیہ نظام سے باہر کسی جماعت یا تنظیم کو انتخابی عمل میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہے۔

ایران کے انتخابات میں "گندے پیسے" کے فیصلہ کن کردار کے بارے میں بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ وزیر داخلہ عبد الرضا رحمانی فضلی نےبھی حکومتی اداروں میں کرپشن کی تصدیق کی تھی۔ حزب اختلاف کے مطابق ایرانی حکومت اور اس کے اہم ادارے بدعنوانی، فراڈ اور ظلم پر مبنی ہیں۔

مئی 2017 میں براہ راست نشر ہونے والے ایک صدارتی مباحثے میں ایرانی صدر حسن روحانی نے انکشاف کیا تھا ان کے ایک اہم حریف محمد باقر قالیباف نے 2005 میں گذشتہ انتخابی مہم میں "گندا پیسہ" استعمال کیا تھا۔

روحانی نے کہا کہ انہیں افسوس ہے کہ اس وقت ایران کے سیکیورٹی چیف کی حیثیت سے قالیباف نے اس کیس کوعدالت میں جانے سے روکا تھا۔

انہوں نے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ "ہمارے پاس خفیہ اور عام معلومات ہیں کہ انقلاب کے دشمن معاشرے کو تقسیم کرنے اور صورتحال سے فائدہ اٹھانے کے لئے انتخابات کو استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

حال ہی میں رحمانی فضلی نے کہا تھا کہ معاشی مسائل ملک کی 80 فیصد آبادی کا مسئلہ ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی عدم توازن بنیادی مسائل ہیں جن کے خلاف ملک میں احتجاجی مظاہرے ہوتے ہیں۔

کئی ماہ سے عملے کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی، فیکٹریوں اور کمپنیوں کی بندش،تنخواہوں کی بندش اور معاشی بحران کی وجہ عوام سڑکوں پر آنے پر مجبور ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند