تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
بشار حکومت نے نیا تعمیر شدہ ہسپتال اپنے انتظام میں لینے سے انکار کر دیا!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 26 جمادی الاول 1441هـ - 22 جنوری 2020م
آخری اشاعت: ہفتہ 5 صفر 1441هـ - 5 اکتوبر 2019م KSA 13:27 - GMT 10:27
بشار حکومت نے نیا تعمیر شدہ ہسپتال اپنے انتظام میں لینے سے انکار کر دیا!
العربیہ ڈاٹ نیٹ ۔ عہد الفاضل

شام میں بشار حکومت نے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ وہ حماہ صوبے کے مغربی دیہی علاقے الغاب میں بنائے گئے "صلاح عبدالہادی حیدر" ہسپتال کو مطلوب سہولیات اور طبی عملہ فراہم کرنے کی قدرت نہیں رکھتی۔ واضح رہے کہ یہ ہسپتال مکمل طور پر عطیات کے ذریعے تعمیر کیا گیا ہے تاہم اس کے باوجود شامی حکومت کا کہنا ہے کہ کئی ہفتے قبل مکمل کر لیے جانے والے ہسپتال کی انتظامیہ کو دینے کے لیے اس کے پاس مطلوبہ رقوم نہیں ہیں۔

ہسپتال کی تعمیر کے لیے عطیاتی مہم میں روسی فوجی افسران بھی شامل رہے جو ہسپتال کے علاقے کا دورہ کر رہے تھے۔ مذکورہ روسیوں نے علاقے میں علوی فرقے کی ایک معروف شخصیت اور تعمیراتی کام کے نگراں شیخ شعبان منصور سے بھی ملاقات کی۔

اگرچہ ہسپتال کی تعمیر میں ریاست پر کسی قسم کا قابل ذکر مالی بوجھ نہیں ڈالا گیا تاہم بشار حکومت کے وزیر صحت نے اعلان کیا ہے کہ ان کی وزارت ہسپتال کی عمارت کو ہر گز اپنے زیر انتظام نہیں لے گی کیوں کہ وہ مطلوبہ طبی عملہ ، ساز و سامان اور ورکروں کو فراہم کرنے کی قدرت نہیں رکھتی۔

یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شام میں تمام سرکاری شعبوں میں بدعنوانی کا دور دورہ ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر بشار حکومت کے اعلی ترین عہدے داران کی بدعنوانی کے اسکینڈل بے نقاب ہو رہے ہیں۔ حکومت کے سابقہ ذمے داران کی اکثریت یا تو جیل میں ہے اور یا پھر انہیں تحقیقات اور عدالتی کارروائی کا سامنا ہے۔ ان شخصیات کی دولت میں بے پناہ اضافہ ہوا جن میں بشار الاسد کا ماموں زاد بھائی رامی مخلوف بھی شامل ہے۔ وہ ایک کاروباری شخصیت ہے جس کا بین الاقوامی سطح پر تعاقب کیا جا رہا ہے۔ مخلوف کا نام 2008 سے امریکی وزارت خزانہ کی پابندیوں میں شامل افراد کی فہرست میں ہے۔

شامی حکومت کو ڈالر کے مقابلے میں مقامی کرنسی لیرہ کی قدر میں شدید گراوٹ کا مسئلہ بھی درپیش ہے۔ گذشتہ ماہ ستمبر میں شامی کرنسی کی قیمت میں ریکارڈ کمی واقع ہوئی تھی جب ایک ڈالر 690 لیرہ کے مساوی ہو گیا۔

کئی ماہ سے شامی حکومت کا اقتصادی بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ سیاسی اور معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اس کی وجہ ایران کی جانب سے بشار حکومت کے لیے جاری مالی سپورٹ سے ہاتھ کھینچ لینا ہے۔ اس حوالے سے ایران کے پچھلے قدم پر جانے کا سبب تہران پر عائد کی جانے والی سخت امریکی پابندیاں ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند