تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
مقبوضہ بیت المقدس میں سیکڑوں یہودی آبادکاروں کا مسجد الاقصیٰ پر دھاوا
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 8 شعبان 1441هـ - 2 اپریل 2020م
آخری اشاعت: منگل 8 صفر 1441هـ - 8 اکتوبر 2019م KSA 19:04 - GMT 16:04
مقبوضہ بیت المقدس میں سیکڑوں یہودی آبادکاروں کا مسجد الاقصیٰ پر دھاوا
العربیہ ڈاٹ نیٹ

مقبوضہ بیت المقدس میں سیکڑوں یہودی آبادکاروں نے منگل کے روز مسجد الاقصیٰ پر دھاوا بول دیا ہے۔فلسطینی خبر اور اطلاعاتی ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر زراعت یوری ایریل مسجدالاقصیٰ پر دھاوا بولنے والے یہودی بلوائیوں کی قیادت کررہے تھے۔

آبادکار یہود کا مقدس دن یوم کپور منانے کے لیے مسجد الاقصیٰ کے احاطے میں گھس آئے تھے۔سوموار اور منگل کی درمیانی شب بھی ہزاروں یہودی آبادکار مسجد الاقصیٰ کے احاطے میں واقع دیوار گریہ کے ساتھ دیوار البراق کے صحن میں گھس آئے تھے۔انھوں نے یہ حرکت یوم کپور کی مذہبی عبادات سے قبل کی تھی۔اس موقع پر اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے گردونواح کی فلسطینی آبادی کی نقل وحرکت پر پابندی عاید کردی تھی۔

فلسطین کی وزارتِ اوقاف اور مذہبی امور کے انڈر سیکریٹری حسام ابوالرب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ان دراندازیوں کا مقصد مسجد الاقصیٰ کی آزادی کو نقصان پہنچانا ہے۔اسرائیلیوں نے کم وبیش روزانہ ہی اشتعال انگیز خلاف ورزیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ان کا مقصد اس علاقے کو یہودی رنگ میں رنگنا اور یہودیانا ہے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’اسرائیل کی نئی مہم حقائق کو مسخ کرنے کی پالیسی پر مبنی ہے اور یہودی آباد کاروں نے مقدس مقامات پر منافرت انگیز نسل پرستی شروع کررکھی ہے۔‘‘

واضح رہے کہ مسجد الاقصیٰ کو اسرائیلی، فلسطینی تنازع میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔یہودی آباد کار آئے دن اس کی بے حرمتی کا ارتکاب کرتے رہتے ہیں۔مسلمانوں کا یہ قبلۂ اول اور اس حیثیت میں تیسرا متبرک مقام ہے۔یہودی اس کو ٹیمپل ماؤنٹ (معبدالقدس) قرار دیتے ہیں اور ان کا یہ دعویٰ ہے کہ قدیم دور میں یہود کے یہاں دو قدیم متبرک معبد تھے۔

اسرائیل نے 1967ء کی جنگ میں بیت المقدس کے قدیم شہر اور مشرقی حصے پر قبضہ کر لیا تھا اور پھر اس کو ریاست میں ضم کرلیا تھا لیکن اس کے اس اقدام کو عالمی برادری تسلیم نہیں کرتی ہے۔

فلسطینی مشرقی القدس میں اسرائیل کی اتھارٹی کو تسلیم نہیں کرتے ہیں اور وہ اس کو مستقبل میں قائم ہونے والی اپنی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔اس مجوزہ ریاست میں غزہ کی پٹی اور دریائے اردن کے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے شامل ہوں گے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند