تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ترک نواز جنگجوؤں نے شام میں نو شہریوں کو قتل کردیا: رصدگاہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 19 صفر 1441هـ - 19 اکتوبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 12 صفر 1441هـ - 12 اکتوبر 2019م KSA 22:27 - GMT 19:27
ترک نواز جنگجوؤں نے شام میں نو شہریوں کو قتل کردیا: رصدگاہ
ترک نواز جنگجوؤں کی فائرنگ سے شامی شہریوں کی ہلاکتوں کی دو ویڈیوز جاری کی گئی ہیں۔
بیروت ۔ ایجنسیاں

شام کے شمال مشرقی علاقے میں کرد فورسز کے خلاف آپریشن میں شریک ترک نوازباغی جنگجوؤں نے نو شہریوں کو قتل کردیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے ہفتے کے روزاطلاع دی ہے کہ ان نو شہریوں کو شام کے سرحدی قصبے تل ابیض کے نواح میں مختلف مقامات پر گولیاں مار کر موت کی نیند سلایا گیا ہے۔

ترک فوج کی اس کارروائی کا ہدف شامی جمہوری فورسز ( ایس ڈی ایف) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کرد سیاسی جماعت کی ایک خاتون عہدہ دار حفرین خالف اور ان کا ڈرائیور بھی ان مقتولین میں شامل ہے۔ترک نواز جنگجوؤں نے انھیں ان کی کار سے باہرنکالا اورپھرگولیوں کا نشانہ بنا دیا تھا۔

ایس ڈی ایف نے بیان میں مزید کہا ہے’’یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ترک ریاست نے غیر مسلح شہریوں کے خلاف مجرمانہ پالیسی جاری رکھی ہوئی ہے۔‘‘

کرد کارکنان نے ان افراد کی ہلاکتوں کی دو ویڈیوز سوشل میڈیا پر جاری کی ہیں۔ان میں ایک ویڈیو باغی گروپ احرار الشرقیہ کے ٹویٹر اکاؤنٹ پر جاری کی گئی ہے۔اس میں سفید کپڑوں میں ملبوس دوافراد کو گھٹنے کے بل جھکے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ان کے ساتھ کھڑا ایک جنگجو یہ اعلان کرتا ہے کہ ان کے گروپ نے انھیں گرفتار کیا ہے۔

دوسری ویڈیو میں ایک نامعلوم جنگجو زمین پر پڑے سادہ کپڑوں میں ملبوس ایک شخص پر فائر کھول دیتا ہے۔شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے ان دونوں ویڈیوز کے مصدقہ ہونے کی تصدیق کی ہے لیکن اے ایف پی نے ان کی تصدیق نہیں کی ہے۔

ترکی کی مسلح افواج اور اس کے اتحادی شامی باغی جنگجوؤں نے گذشتہ بدھ کو شام کے شمالی مشرقی علاقے میں کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس ( وائی پی جی ) کے خلاف ’آپریشن امن بہار‘ کے نام سے اس کارروائی کا آغاز کیا تھا۔

رصدگاہ کے مطابق ان افراد کی ہلاکتوں کے بعد ترک فوج کی اس کارروائی میں شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد اڑتیس ہوگئی ہے جبکہ ترک فوج کے حملوں اور جھڑپوں میں اکاسی کرد جنگجو مارے گئے ہیں۔ترکی وائی پی جی کو ایک دہشت گرد گروپ اور اپنے ہاں کے علاحدگی پسند کرد باغیوں کا اتحادی قرار دیتا ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند