تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
شام : راس العین کے مغرب میں سیرین ڈیموکریٹک فورسز کا جوابی حملہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 17 ربیع الاول 1441هـ - 15 نومبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 15 صفر 1441هـ - 15 اکتوبر 2019م KSA 10:10 - GMT 07:10
شام : راس العین کے مغرب میں سیرین ڈیموکریٹک فورسز کا جوابی حملہ
سیرین ڈیموکریٹک فورسز
العربیہ ڈاٹ نیٹ

شام میں انسانی حقوق کے سب سے بڑے نگراں گروپ المرصد کے مطابق سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کی جانب سے راس العین شہر کے مغرب میں ترکی کی فورسز اور اس کے ہمنوا شامی اپوزیشن گروپوں پر جوابی حملہ کیا جا رہا ہے۔ اس دوران شدید اور متبادل گولہ باری کے بیچ جھڑپوں کا محور تل حلف المناجیر کا علاقہ ہے۔

ایس ڈی ایف نے علاقے میں پیش قدمی کو یقینی بناتے ہوئے بعض ٹھکانوں اور پوزیشنوں کو واپس لے لیا ہے جو گذشتہ گھنٹوں کے دوران اس کے ہاتھ سے نکل گئی تھیں۔ المرصد کے مطابق جھڑپوں میں فریقین کے مزید ارکان ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

اس سے قبل المرصد نے بتایا تھا کہ راس العین شہر میں اور المناجیر کے اطراف ایس ڈی ایف کی ترکی کی فورسز اور اس کے ہمنوا شامی اپوزیشن گروپوں کے ساتھ شدید جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس دوران فضائی بم باری اور زمینی گولہ باری کی جاتی رہی۔

ترکی اور اس کے ہمنوا گروپوں نے بدھ کے روز شمال مشرقی شام میں کرد فورسز کے خلاف حملہ شروع کیا تھا۔

ترک نواز جنگجو

ترکی کی جانب سے اس حملے کا مقصد شام کی اراضی میں 32 کلو میٹر اندر تک اپنے زیر کنٹرول ایک سیف زون قائم کرنا ہے جہاں اُن 36 لاکھ پناہ گزینوں کا ایک بڑا حصہ منتقل کیا جا سکے جو اس وقت ترکی میں موجود ہیں۔

اس سے قبل شام میں کرد خود مختار انتظامیہ نے اتوار کے روز اعلان کیا تھا کہ شامی حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس کے تحت بشار کی فوج ترکی کے ساتھ سرحد پر تعینات ہو گی تا کہ ان علاقوں میں جاری ترکی کے حملے کو روکا جا سکے۔

سال 2012 سے کردوں کے علاقوں سے شامی افواج کے بتدریج انخلا کے بعد کرد اپنے لیے انتظامی اور سیکورٹی ادارے قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ انہوں نے اپنی زبان اور ثقافتی ورثے کا احیا کیا اور اپنے علاقوں کے امور آسان بنانے کے لیے خود مختار انتظامیہ کا اعلان کر دیا۔

کرد یونٹس کو سیرین ڈیموکریٹک فورسز کی ریڑھ کی ہڈی شمار کیا جاتا ہے۔ شام کے شمال اور شمال مشرق میں وسیع علاقوں سے داعش تنظیم کے قلع قمع کے بعد سیرین ڈیموکریٹک فورسز نے شام کے تقریبا 30% رقبے کا کنٹرول حاصل کر لیا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند