تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
پناہ گزینوں کو ترکی سے شمالی شام منتقل کیا جائے گا: ایردوآن
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 7 ربیع الثانی 1441هـ - 5 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 15 صفر 1441هـ - 15 اکتوبر 2019م KSA 12:56 - GMT 09:56
پناہ گزینوں کو ترکی سے شمالی شام منتقل کیا جائے گا: ایردوآن
دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے ایک بار پھر ترکی میں موجود شامی پناہ گزینوں سے متعلق اپنے موقف کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں شمالی شام منتقل کیا جائے گا۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل میں منگل کے روز شائع ہونے والے ایک مضمون میں ایردوآن نے کہا کہ ان کا ملک شام کے اندر 44 کلو میٹر کے رقبے پر ایک سیف زون قائم کرے گا۔

ترکی کے صدر نے یورپی ممالک کو ایک بار پھر اس بات کا مورد الزام ٹھہرایا کہ وہ شامی پناہ گزینوں کے معاملے میں تعاون نہیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "عالمی برادری نے شامی پناہ گزینوں کی ذمے داری اٹھانے کے سلسلے میں مدد سے متعلق میری درخواست پر کان نہیں دھرے جس کے سبب میں نے شام کے شمال مشرق میں (سیف زون سے متعلق) ایک منصوبہ وضع کیا"۔

ایردوآن کا مزید کہنا تھا کہ "پناہ گزینوں کے بحران سے نمٹنے کے لیے متبادل منصوبہ نہ ہونے پر عالمی برادری کو چاہیے کہ ہماری کوششوں میں شامل ہو جائے اور یا پھر پناہ گزینوں کو قبول کرنا شروع کر دے"۔

ترکی کے صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کئی مغربی ممالک کی جانب سے شمالی شام میں انسانی المیہ جنم لینے کے حوالے سے خبردار کیا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ نے اتوار کے روز اعلان کیا تھا کہ شمالی شام میں ترکی کی فوج اور اس کے ہمنوا مسلح شامی گروپوں کے حملے کے بعد سے تل ابیض اور راس العین کے اطراف دیہی علاقوں سے 1.3 لاکھ سے زیادہ افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔

انسانی امور کی رابطہ کاری سے متعلق اقوام متحدہ کے دفتر کے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ادارے اور امدادی ایجنسیوں کے اندازوں کے مطابق شام میں تنازع کے علاقے میں 4 لاکھ کے قریب شہریوں کو آئندہ عرصے میں امداد اور تحفظ کی ضرورت ہو گی۔

ترکی کے صدر ایردوآن نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ داعش تنظیم کے عناصر کو شام سے جانے نہیں دیا جائے گا۔ اس سے قبل امریکا نے ترکی پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ شمالی شام میں فوجی آپریشن کے باعث داعش تنظیم کے ارکان کے فرار ہونے کا آسان بنا رہا ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند