تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
شام میں کردوں کے زیر انتظام کیمپ سے 9 فرانسیسی خواتین کے فرار کی تصدیق
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 17 ربیع الاول 1441هـ - 15 نومبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 16 صفر 1441هـ - 16 اکتوبر 2019م KSA 17:16 - GMT 14:16
شام میں کردوں کے زیر انتظام کیمپ سے 9 فرانسیسی خواتین کے فرار کی تصدیق
فرانسیسی وزیر خارجہ وائی ویس لی دریان
پیرس ۔ ایجنسیاں

شام کے شمال مغرب میں کرد فورسز کے زیر انتظام کیمپ سے نو فرانسیسی خواتین فرار ہونے میں کامیاب ہوگئی ہیں۔

فرانسیسی وزیر خارجہ وائی ویس لی دریان نے پیرس میں بدھ کو ایک بیان میں ان کے فرار کی تصدیق کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ عراق جائیں گے جہاں وہ شام میں زیر حراست انتہا پسندوں کے خلاف مقدمات چلانے کے عدالتی فریم ورک کے بارے میں تبادلہ خیال کریں گے۔

کردوں کے زیر انتظام کیمپ سے فرار ہونے والی تین فرانسیسی عورتوں کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ داعش کے ہتھے چڑھ گئی ہیں اور انھوں نے اپنے وکیل کو اس سلسلے میں پیغامات کے ذریعے مطلع کردیا ہے۔

ترکی کی شام کے شمال مشرقی علاقے میں گذشتہ بدھ کو کردملیشیا کے زیر قیادت شامی جمہوری فورسز کے خلاف کارروائی کے آغاز کے بعد متعدد فرانسیسی خواتین ایک حراستی کیمپ سے بھاگ جانے میں کامیاب ہوگئی ہیں۔یہ خواتین گذشتہ برسوں کے دوران میں داعش کے عروج کے زمانے میں فرانس سے شام آگئی تھیں اور انھوں نے داعش میں شمولیت کے علاوہ اس گروپ کے جنگجوؤں سے شادیاں کر لی تھیں۔

شمالی شام میں کرد انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی قصبے عین عیسیٰ میں واقع کیمپ کے نزدیک ترک فوج کی بمباری کے نتیجے میں داعش کے ارکان کے 785 رشتے دار فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ ان میں داعش کی خواتین اور بچے شامل ہیں۔

کرد ذرائع کے مطابق شام کے شمال مشرقی علاقے میں واقع جیلوں میں داعش کے قریباً 12 ہزار جنگجو قید ہیں۔ ان میں ڈھائی سے تین ہزار غیر ملکی ہیں۔ان کے علاوہ ان کے خاندانوں کے 12 ہزار افراد کیمپوں میں زیر حراست ہیں۔یہ بھی تمام غیر ملکی ہیں اور ان میں آٹھ ہزار بچے اور چار ہزار خواتین ہیں۔

وزیر خارجہ لی دریان کا کہنا تھا کہ ان زیر حراست جنگجوؤں میں دسیوں فرانسیسی جنگجو ہیں جبکہ فرانس کے سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ 60 سے 70 فرانسیسی اپنے بیویوں کے ساتھ شمال مشرقی شام میں جیلوں یا حراستی کیمپوں میں بند ہیں۔

شامی جمہوری فورسز نے خبردار کیا ہے کہ ترکی کی علاقے میں فوجی کارروائی کے بعد ان کیمپوں کا انتظام سنبھالنا ان کے بس میں نہیں رہا ہے۔کرد ملیشیا کے زیر انتظام ایک جیل سے اختتام ہفتہ پر داعش کے سیکڑوں جنگجو فرار ہوگئے تھے اور ان میں بہت سے غیر ملکی بھی تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کرد وں کے زیر قیادت شامی جمہوری فورسز انھیں شاید جان بوجھ کر چھوڑ رہی ہیں تاکہ امریکا اور مغربی ممالک کی حمایت حاصل کی جاسکے اور علاقے سے امریکی فوجیوں کے انخلا کو روکا جاسکے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند