تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
عالمی دبائو مسترد، ترکی کا شام میں فوجی آپریشن جاری رکھنے پر اصرار
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 17 ربیع الاول 1441هـ - 15 نومبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 16 صفر 1441هـ - 16 اکتوبر 2019م KSA 07:56 - GMT 04:56
عالمی دبائو مسترد، ترکی کا شام میں فوجی آپریشن جاری رکھنے پر اصرار
العربیہ ڈاٹ نیٹ ۔ ایجنسیاں

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے منگل کے روز ایک بیان میں شامی حکومت اور کرد فورسز کے مابین ہونے والے معاہدے کی مذمت کرتے ہوئے دنیا کے سامنے ایک واضح چیلنج میں کہا ہے کہ ترکی دنیا کی حمایت کے ساتھ یا اس کے بغیر شام میں اپنی کارروائی جاری رکھے گا۔

ترکی کے ایوان صدر میں مواصلات کے ڈائریکٹر فخرالدین الٹن نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'ہم دنیا بھر میں دہشت گرد گروہوں اور 'داعش' کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے۔ چاہے دنیا ہماری حمایت کرے یا مخالفت کرے۔ ہمیں اس کی کوئی پروا نہیں۔

شام میں روس کے مندوب الیگزینڈر لورنیٹینوف نے شمال مشرقی شام میں ترک حملے کو "ناقابل قبول" قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماسکو نے پہلے ہی شام میں ترکی کی فوجی کارروائی سے اتفاق نہیں کیا تھا۔

روسی مندوب کا کہنا تھا کہ ماسکو نے شامی حکومت اور کرد فورسز کے مابین سمجھوتا کرانے میں ثالثی کی ہے، جس کے نتیجے میں حکومتی فورسز کو کردوں کے زیر کنٹرول علاقے میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی ہے۔

ایلچی نے صحافیوں کو بتایا کہ کردوں اور شامی حکومت کے مابین بات چیت شام روسی فضائی اڈے حمیحیم اور دیگر مقامات پرہوئی۔

حملہ ناقابل قبول ہے

پیر کے روز امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے شمال مشرقی شام میں کرد دھڑوں کے خلاف ترکی فوجی کارروائی کو "ناقابل قبول" قراردیتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکی کے کردوں کے خلاف آپریشن کے دوران'داعش' کے پکڑے گئے خطرناک قیدیوں کو رہا کر دیا گیا ہے۔

ایسپر نے ایک بیان میں کہا کہ ان کا ملک نیٹو سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ 'داعش' کے خلاف جاری مشن کو نقصان پہنچانے پر ترکی کے خلاف کارروائی کرے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند