تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
شمالی شام میں ترکی کے حملے کا ثمرہ ، 3 لاکھ سے زیادہ شہری بے گھر
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 14 ربیع الاول 1441هـ - 12 نومبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 17 صفر 1441هـ - 17 اکتوبر 2019م KSA 12:59 - GMT 09:59
شمالی شام میں ترکی کے حملے کا ثمرہ ، 3 لاکھ سے زیادہ شہری بے گھر
العربیہ ڈاٹ نیٹ ، ایجنسیاں

ترکی کی فوج اور اس کے ہمنوا شامی گروپوں نے شمالی شام میں کردوں کے زیر کنٹرول علاقوں کے خلاف حملے کا آغاز رواں ماہ 9 اکتوبر کو کیا تھا۔ شام میں انسانی حقوق کے سب سے بڑے نگراں گروپ المرصد کے مطابق شمال مشرقی شام میں حملے کے بعد سے اب تک 3 لاکھ سے زیادہ شہری اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ المرصد کا کہنا ہے کہ ترکی کی فوج اور اس کے ہمنوا گروپوں کی پیش قدمی جاری ہے اور انہوں نے راس العین شہر کے آدھے حصے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

المرصدر کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمن نے جمعرات کے روز فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ نقل مکانی کرنے والے زیادہ تر افراد الحسکہ صوبے سے راہ فرار اختیار کر چکے ہیں جہاں سرحدی علاقوں میں فریقین کے درمیان معرکہ آرائی جاری ہے۔ اس کے علاوہ شمالی شام میں كوبانی (صوبہ حلب) اور تل ابيض (صوبہ الرقہ) کے علاقوں میں بھی گھمسان کی لڑائی ہو رہی ہے۔

رامی کے مطابق سیرین ڈیموکریٹک فرسز (ایس ڈی ایف) کے خلاف شدید جھڑپوں کے بعد ترکی کی فوج اور اس کے ہمنوا شامی گروپوں نے جمعرات کو علی الصبح راس العین کے تقریبا آدھے حصے کا کنٹرول سنبھال لیا۔

المرصد کا کہنا ہے کہ الحسکہ صوبے میں 40 اسکول بے گھر افراد کی پناہ کے مراکز میں تبدیل ہو چکے ہیں جب کہ بہت سے لوگوں نے اپنے رشتے داروں کے گھروں میں سر چھپایا اور دیگر لوگ کھلے آسمان کے نیچے مقیم ہیں۔

کردوں کی خود مختار انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ترکی کے حملے میں اب تک 218 شہری جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں بچے اور طبی اہل کار بھی شامل ہیں۔

اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایک ہفتے سے جاری ترکی کے عسکری آپریشن کے سبب بے گھر افراد کو درپیش مشکل حالات سے خبردار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق تقریبا ایک ہزار افراد فرار ہو کر پڑوسی ملک عراق چلے گئے ہیں۔

ترکی کی جانب سے گذشتہ ہفتے سے جاری حملے کا مقصد شمالی شام میں موجود کرد جنگجوؤں کو اپنی سرحد سے دور کرنا اور وہاں ایک سیف زون قائم کرنا ہے ... تا کہ ترکی کی سرزمین پر موجود 36 شامی پناہ گزینوں کا بڑا حصہ اس سیف زون میں منتقل کیا جا سکے۔

المرصد کے مطابق ترکی نے سرحدی پٹی پر تقریبا 120 کلو میٹر تک اپنا کنٹرول جما لیا ہے اور بعض مقامات پر یہ کنٹرول سرحد پار شامی اراضی میں 30 کلوم میٹر اندر تک پہنچا ہوا ہے۔

المرصد کا کہنا ہے کہ شمال مشرقی شام میں حملے کے نتیجے میں کم از کم 72 شہری جاں بحق ہو چکے ہیں۔

ترکی کی پیش قدمی کا مقابلہ کرنے کے لیے شام کے کُردوں نے بشار کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ شامی سرکاری فوج کو سرحد پر تعینات کیا جائے۔

ترکی کے حالیہ حملے کے بعد عالمی برادری کی جانب سے مذمتی بیانات اور مواقف سامنے آئے ہیں۔ ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے فوجی آپریشن روکنے کے حوالے سے بین الاقوامی دباؤ کو مسترد کر دیا ہے۔ ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے نائب مائیک پنس کو انقرہ بھیجا ہے تا کہ ترکی کو فائر بندی کے واسطے قائل کیا جا سکے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند