تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
قطر کو عرب لیگ سے بے دخل کرنے کا مطالبہ زور پکڑ گیا
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 16 ربیع الاول 1441هـ - 14 نومبر 2019م
آخری اشاعت: جمعرات 17 صفر 1441هـ - 17 اکتوبر 2019م KSA 07:05 - GMT 04:05
قطر کو عرب لیگ سے بے دخل کرنے کا مطالبہ زور پکڑ گیا
دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

سماجی رابطے کی سائٹ پر خلیجی ریاست قطر کو عرب لیگ سے بے دخل کرنےکا ایک تحریک بنتا جا رہا ہے۔ قطر کی طرف سے شام میں ترکی کی فوجی کارروائی کی حمایت کے بعد دوحا کے خلاف عرب ممالک میں سخت غم وغصے کی فضاء پائی جا رہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جب قطر نے یکطرفہ طور پر شام پرترکی کے حملے کی حمایت کی اور 2 لاکھ شامی مہاجرین کو زبردستی مشرقی شام میں بسانے کے منصوبے پرکام شروع کیا تو قطر کوسوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ترکی کا یہ دعویٰ قطعی بے بنیاد ہے کہ شام میں موجود کرد باغی ترکی پرحملہ کرنا چاہتے تھے۔

ایک ماہ پیشتر جب مصری صدر عبدالفتاح السیسی امریکا میں تھے تو قطر اور ترکی نے مصرمیں افراتفری کو ہوا دینے کی کوشش کی تھی۔ اس کے علاوہ قطر پر تنقیدکی ایک وجہ دوحا کی طرف سے لیبیا کی قومی وفاق حکومت کی حمایت بھی ہے۔ قطر اور ترکی دونوں اخوان المسلمون کے حمایت یافتہ عناصر پرمشتمل اس حکومت کی حمایت کررہے ہیں۔

ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ قطر کو عرب لیگ سے نکال دیا جانا چاہیئے کیونکہ اس نے شام میں اردوآن کی دہشت گردی کی منصوبہ بندی اور مالی اعانت کی۔ دہشت گرد گروہوں کی حمایت کی اور فارس ، ترک ، اخوان کے شیطانوں، دہشت گرد حوثیوں ، حماس ، القاعدہ اور عراق کی الحشد الشعبی ملیشیا کے ساتھ اتحاد کیا۔

قطر واحد عرب لیگ ملک ہے جس نے شام میں ترکی کی فوجی کارروائی کی غیر مشروط حمایت کی ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند