تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
شمالی شام میں فائر بندی کے سمجھوتے کے باوجود راس العین میں جھڑپیں اور گولہ باری
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 18 ربیع الاول 1441هـ - 16 نومبر 2019م
آخری اشاعت: جمعہ 18 صفر 1441هـ - 18 اکتوبر 2019م KSA 09:48 - GMT 06:48
شمالی شام میں فائر بندی کے سمجھوتے کے باوجود راس العین میں جھڑپیں اور گولہ باری
العربیہ ڈاٹ نیٹ – ایجنسیاں

برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق فائر بندی سے متعلق ترکی اور امریکا کے بیچ سمجھوتے کے باوجود جمعے کے روز شمالی شام کے علاقے راس العین میں گولہ باری اور فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔

ایجنسی نے واضح کیا کہ جمعرات کے روز ترکی نے امریکا کے ساتھ اس بات پر اتفاق کا اظہار کیا تھا کہ وہ پانچ روز کے لیے اپنے حملے کو روک دے گا۔ اس اقدام کا مقصد کردوں کے زیر قیادت فورسز کو انخلاء کا موقع دینا ہے۔

ادھر شام میں انسانی حقوق کے سب سے بڑے نگراں گروپ المرصد نے بتایا ہے کہ جنگ بندی کے سمجھوتے کے باوجود راس العین اور عین عیسی کے علاقوں میں جھڑپوں اور گولہ باری کا سلسلہ جاری ہے۔

یاد رہے کہ امریکی نائب صدر مائیک پینس نے جمعرات کے روز اعلان کیا تھا کہ شمالی شام کی صورت حال کے حوالے سے امریکا اور ترکی کے درمیان ایک سمجھوتا طے پا گیا ہے۔ انقرہ میں امریکی سفارت خانے کے اندر گفتگو کرتے ہوئے پینس نے باور کرایا کہ واشنگٹن اور ترکی شام میں فائر بندی پر متفق ہو گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ 120 گھنٹوں کے لیے عسکری کارروائیوں روک دی جائیں گی اور اس دوران امریکا کرد پروٹیکشن یونٹس کی فورسز کے انخلا کی کارروائی آسان بنانے کی نگرانی کرے گا۔ مائیک پینس نے ترکی پر زور دیا کہ وہ فائر بندی کی مکمل پاسداری کرے اور متاثرہ علاقوں میں اقلیتوں کی مدد کرے۔

امریکی نائب صدر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ شمالی شام سے انخلاء کے فوری بعد ترکی پر عائد پابندیاں ختم کر دی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ انقرہ پر مزید پابندیاں عائد نہیں کی جائیں گی۔ پینس کے مطابق کرد فورسز ترکی کے ساتھ سرحدی علاقے میں 20 میل تک کا رقبہ خالی کر دیں گی۔

دوسری جانب ترکی کے وزیر خارجہ چاوش اولو مطابق سرحدی علاقوں سے "دہشت گردوں" کا انخلا لڑائی روکنے کے سمجھوتے پر عمل درامد کی بنیادی شرط ہے۔ ترک وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ ترکی نے شام میں فوجی آپریشن ختم نہیں کیا ہے۔

اولو نے یہ بیان ایردوآن کی پینس کے ساتھ بات چیت کے بعد ایک پریس کانفرنس میں دیا۔ وزیر خارجہ کے مطابق انقرہ حکومت شمالی شام میں سیف زون کے قیام کے لیے مُصر ہے اور اس بات پر واشنگٹن کے ساتھ اتفاق رائے ہو گیا ہے کہ سرحدی زون پر ترکی کا کنٹرول ہو گا۔ اولو نے واضح کیا کہ فوجی آپریشن کو معلق کیا گیا ہے اور اسے مکمل طور پر روکا نہیں گیا۔ انقرہ کا امریکا کے ساتھ اس بات پر بھی اتفاق ہوا ہے کہ کرد فورسز سے بھاری ہتھیار لے کر ان کے ٹھکانوں کو تباہ کر دیا جائے گا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند