تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
امریکی فورسز کا شمالی شام میں واقع بڑے اڈے سے انخلا
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 16 ربیع الاول 1441هـ - 14 نومبر 2019م
آخری اشاعت: اتوار 20 صفر 1441هـ - 20 اکتوبر 2019م KSA 18:35 - GMT 15:35
امریکی فورسز کا شمالی شام میں واقع بڑے اڈے سے انخلا
امریکی فوجیوں نے اتوار کو شام کے شمال میں واقع اپنا ایک بڑا فوجی اڈا بھی خالی کردیا ہے۔
ایجنسیاں

امریکی فورسز نے اتوار کے روز شام کے شمال میں واقع اپنے ایک اہم اور بڑے فوجی اڈے کو خالی کردیا ہے۔

فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کے نمایندے نے اطلاع دی ہے کہ امریکی فوج کی ستر سے زیادہ بکتر بند گاڑیاں تل تمر کو خالی کرکے روانہ ہوگئی ہیں۔ ان گاڑیوں پر فوجی سازوسامان لدا ہوا تھا اورہیلی کاپٹران کی فضائی نگرانی کررہے تھے۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے بتایا ہے کہ امریکی فوجیوں کا قافلہ سیرین میں واقع فوجی اڈے کو خالی کرنے کے بعد مشرق کی جانب رواں دواں تھا اور بظاہر وہ مشرقی شہر الحسکہ کی جانب جارہا تھا۔

رصدگاہ کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ شام کے شمال میں واقع سیرین میں امریکی فوج کا یہ سب سے بڑا اڈا تھا۔یہ شام کے سرحدی علاقے میں مجوزہ ’’محفوظ زون‘‘ کے کنارے واقع ہے۔انھوں نے مزید وضاحت کی ہے کہ ترکی اسی علاقے سے کردملیشیا کو پیچھے ہٹانا چاہتا ہے۔

امریکی فوجیوں کا گذشتہ ایک ہفتے کے دوران میں شام سے یہ چوتھا انخلا ہے۔امریکا کے فوجی اور خصوصی دستے شام کے دو صوبوں حلب اورالرقہ میں تعینات تھے اور پہلے تین مراحل میں انھیں وہاں سے واپس بلایا گیا ہے۔امریکی وزیر دفاع کے بیان کے مطابق شام سے واپس بلائے جانے والے فوجیوں کو شمالی عراق میں بھیجا جارہا ہے۔

کرد ملیشیا کے زیر قیادت شامی جمہوری فورسز( ایس ڈی ایف ) شام میں داعش کے انتہا پسندوں کے خلاف جنگ میں امریکا کی اہم اتحادی رہی ہیں۔ترکی نے انھیں شام کے سرحدی علاقے سے پیچھے ہٹانے کے لیے نو اکتوبر کو فوجی کارروائی شروع کی تھی۔اس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد ہلاک اور کم سے کم تین لاکھ بے گھر ہوگئے تھے۔

اس فوجی کارروائی کے شامی شہریوں کے لیے سنگین مضمرات کے بعد امریکا اور ترکی کے درمیان گذشتہ جمعرات کو جنگ بندی کا ایک سمجھوتا طے پایا تھا۔ اس کے تحت ترک فوج نے کرد جنگجوؤں کے خلاف پانچ روز کے لیے اپنی کارروائی روک دی ہے۔

اس دوران میں کرد جنگجوؤں کا شام کے شمال مشرقی علاقے سےانخلا جاری ہے۔ترکی انھیں دہشت گرد قرار دیتا ہے اور اس نے یہ دھمکی دی رکھی ہے کہ اگر وہ مجوزہ محفوظ زون سے پیچھے نہیں ہٹے تو ان کے خلاف آیندہ منگل سے دوبارہ آپریشن شروع کردیا جائے گا۔

ترکی نے امریکا سے کرد جنگجوں کو تیس کلومیٹر کے علاقے سے پیچھے ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔اب تک طرفین نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کے مذکورہ سمجھوتے کی خلاف ورزیوں کے الزامات عاید کیے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترک فوج کی اس کارروائی کے بعد قبل شام میں موجود اپنے تمام قریباً ایک ہزار فوجیوں کو واپس بلانے کا اعلان کیا تھا۔انھیں اس فیصلے پر اندرون اور بیرون ملک کڑی تنقید کا سامنا ہے اور ان پرامریکا کی ایک اتحادی فورس کو بے دست وپا کرکے تنہا چھوڑنے کے الزامات عاید کیے جارہے ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند