تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
راس العین سے فورسز نکال لیں ، ترکی نے فائر بندی پر عمل نہیں کیا : ایس ڈی ایف
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 22 ربیع الاول 1441هـ - 20 نومبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 21 صفر 1441هـ - 21 اکتوبر 2019م KSA 10:27 - GMT 07:27
راس العین سے فورسز نکال لیں ، ترکی نے فائر بندی پر عمل نہیں کیا : ایس ڈی ایف
العربیہ ڈاٹ نیٹ

شام میں سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے کمانڈر مظلوم عبدی کا کہنا ہے کہ انہوں نے شام کے علاقے راس العین سے اپنی تمام فورسز کو نکال لیا ہے۔ العربیہ نیوز چینل کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ترکی نے فائر بندی کے سمجھوتے کی پاسداری نہیں کی اور وہ اب تک حملے کر رہا ہے۔

ایس ڈی ایف کے مطابق شمالی شام میں فائر بندی کے اعلان کے بعد سے ترکی اور اس کے ہمنوا شامی اپوزیشن گروپوں کی عسکری کارروائیوں میں 25 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔

عبدی نے اس امر کی تصدیق کی کہ ان کی فورسز اپنے تمام زخمی ارکان کو لے کر راس العین سے نکل چکی ہے ... اس طرح طے پائے گئے سمجھوتے میں متعین علاقوں میں سے بعض سے ایس ڈی ایف کی فورسز کے انخلاء پر عمل درامد ہو گیا ہے اور بقیہ علاقوں سے انخلاء پر عمل درامد کیا جا رہا ہے۔ تاہم عبدی کے مطابق ترکی فائر بندی کے معاہدے کی پاسداری نہیں کر رہا اور بدستور حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

عرب لیگ کے موقف کے حوالے سے ایس ڈی ایف کے کمانڈر کا کہنا تھا کہ "ان کا موقف اچھا تھا جس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں۔ وہ ترکی کے قبضے کے خلاف کھڑے ہوئے۔ اسی طرح مملکت سعودی عرب کا موقف بھی بہت اچھا رہا اور ہم اپنے طور پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عرب لیگ کی جانب سے شامی اراضی کی وحدت کو سپورٹ کرنے والا موقف موجودہ صورت حال پر بڑی حد تک اثر انداز ہو گا"۔

مظلوم عبدی کے مطابق "ہمارے اور ترکی کے درمیان امریکا تھا۔ امریکا نے سرکاری طور پر ہم تک جو بات پہنچائی اس کے حوالے سے ہم نے راس العین اور تل ابیض کے علاقوں کے حوالے سے سمجھوتے کو قبول کیا، اس میں دیگر علاقے شامل نہیں۔ ہم نے شمالی شام اور ترکی کے درمیان پوری سرحد پر فائر بندی کو قبول کیا ... ساتھ ہی یہ کہ ہمارے علاقوں کو ترکی کی جانب سے خطرات کا سامنا نہیں ہو گا۔ ہماری فورسز راس العین شہر سے اور راس العین اور تل ابیض کے بیچ واقع علاقوں سے نکل جائیں گی۔ ہم نے اسے قبول کیا اور اب اس پر عمل درامد کر رہے ہیں۔ البتہ میڈیا میں زیر گردش تیرہ نکات کے بارے میں ہمیں علم نہیں۔ ہم نے اس حوالے سے کچھ نہیں کہا ، ہم ان نکات کے متن کو قبل نہیں کر سکتے۔ اس علاقے کے لیے مذاکرات اور سمجھوتے ناگزیر ہیں۔ علاقے کے عوام کے خلاف نسل کشی کے وقوع کو روکنے کے واسطے بین الاقوامی فورسز کی مداخلت ہونی چاہیے۔ ایک جامع اور مکمل حل کے سلسلے میں اس علاقے کا مستقبل واضح ہونا چاہیے"۔

ایس ڈی ایف کے کمانڈر نے کہ کوئی بھی شامی شہری ترکی کے قبضے کو قبول نہیں کر سکتا اور کرد بھی ایسا ہر گز نہیں کریں گے۔ ترکی کی سرحد کو محفوظ بنانے کے طریقہ کار پر بات چیت اور معاہدہ ہو سکتا ہے مگر شام کے سرحدی علاقے میں ترکی کا مستقل عسکری وجود کسی طور بھی قابل قبول نہیں۔ ہر شامی شہری کو ترکی کے عسکری انخلا کا مطالبہ کرنا چاہیے۔

عبدی کا کہنا ہے کہ "ابھی تک ہماری فورسز اور شامی حکومت کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ہوا البتہ فریقین کی باہمی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ہم ترکی کے غاصبانہ قبضے کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک مشترکہ پلان پر متفق ہو گئے ہیں۔ اسی سلسلے میں شامی حکومت کی فورسز منبج، کوبانی اور تل تمر کے علاوہ بین الاقوامی روٹM4 میں داخل ہو کر وہاں تعینات ہو گئی ہیں۔ علاقے کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے بھی اسی طرح ایک سمجھوتا طے پانے کی ضرورت ہے جس کے بعد ہم مزید اقدامات کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے"۔

ایس ڈی ایف کے کمانڈر نے بتایا کہ "امریکا نے کوبانی ، منبج، الطبقہ اور الرقہ کے علاقوں سے اپنی فورسز نکال لی ہیں مگر دریائے فرات کے مشرقی علاقوں میں دیر الزور سے المالکیہ تک امریکی فورسز ابھی تک موجود ہیں۔ انہیں یہاں سے انخلا کے کوئی احکامات موصول نہیں ہوئے۔ امریکا میں ہمارے بہت سے دوستوں کے نزدیک شام سے امریکی فوجیوں کا انخلا کرد عوام اور سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے ساتھ بدعہدی ہے اور وہ اس حوالے سے برعکس اقدام کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں"۔

روس کے حوالے سے مظلوم عبدی کا کہنا تھا کہ وہ شام میں ایک مرکزی طاقت کی حیثیت رکھتا ہے اور شام کے حل کے مستقبل میں اس کا ایک مقام ہے۔ ہمارے ان کے ساتھ رابطے جاری ہیں۔ موجودہ حالات کے حوالے سے روسی موقف ناکافی ہے اور ہم اسے منفی طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اس لیے کہ روس ،،، ترکی کی معاونت کر رہا ہے اور وہ ترکی کے ساتھ اپنے مفادات کو تحفط چاہتا ہے۔ ہم روس سے چاہتے ہیں کہ وہ شامی اراضی کی وحدت، کرد عوام اور ان کے مفادات کو بھی تحفط فراہم کریں۔ ہم کسی طور مجبور نہیں اور نہ کمزور کہ خود پر مسلط کی جانے والی ہر چیز کو قبول کر لیں"۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند