تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سعودی عرب : پتھر کا محل جس کا رنگ 100 سال میں تبدیل نہیں ہوا!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 7 ربیع الثانی 1441هـ - 5 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 21 صفر 1441هـ - 21 اکتوبر 2019م KSA 09:24 - GMT 06:24
سعودی عرب : پتھر کا محل جس کا رنگ 100 سال میں تبدیل نہیں ہوا!
البوقری محل 3 منزلوں پر مشتمل ہے
العربیہ ڈاٹ نیٹ ۔ حامد القرشی، تصاویر ۔ عبدالقادر المالکی

سعودی عرب کے آثار قدیمہ میں ایک اہم ترین تاریخی محل طائف شہر میں واقع ہے جسے البوقری محل کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ محل مملکت میں موجود قدیم محلات میں ایک ہے۔ باغوں کے بیچوں بیچ پھیلا یہ محل اسلامی اور رومن فن تعمیر کی ایک عظیم یادگار ہے۔

محل کے سپروائزر دخیل الحمیدی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ یہ محل مکہ کے ایک تاجر خاندن البوقری سے تعلق رکھتا ہے۔ اسے بوقری خاندان کے دو بھائیوں عمر اور احمد سنہ 1348ھ میں تعمیر کیا تھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ محل خالص سنگ مرمر اور نورا کے پتھر سے تیار کیا گیا یہ پتھر طائف کے پہاڑوں سے لائے گئے تھے۔ ان پتھروں کو مخصوص رنگ میں رنگا گیا اور آج تک ان کا رنگ تبدیل نہیں ہوا۔

اس میں استعمال ہونے والے پتھر کی خوبی یہ ہے کہ گرمیوں میں ٹھنڈا ہوتا ہے اور سردیوں میں گرمی کا احساس دلاتا ہے۔

البوقری محل کی عمارت کی تفصیلات کے بارے میں انہوں نے مزید کہا کہ یہ محل 3 منزلوں پر مشتمل ہے۔ جس میں بیڈ روم، استقبالیہ اور بیت الخلا شامل ہیں۔ انہیں سنگ مرمر سے بنایا گیا۔ نیز اس محل اور اس کی گیلریوں میں کیے گئے لکڑی کے کام نے اس کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کیا ہے۔

الحمیدی نے نشاندہی کی کہ محل آج بھی اپنی خوبصورتی اور بانکپن برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اگرچہ یہ پتھر سے بنایا گیا ہے لیکن یہ طائف کا ایک نہایت ہی پرشکوہ محل سمجھا جاتا ہے۔ یہ زائرین اور سیاحوں کی توجہ کا بھی خاص مرکز رہتا ہے۔ ہفتے کے اختتام اور تعطیلات کے موقع پر یہاں سیاحوں کا رش لگا رہتا ہے جو یہاں آتے اور یادگاری تصاویر کے ساتھ واپس جاتے ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند