تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
علی صالح پرحملے کے ملزمان کی رہائی پرحوثیوں کی صفوں میں پھوٹ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 17 ربیع الاول 1441هـ - 15 نومبر 2019م
آخری اشاعت: پیر 21 صفر 1441هـ - 21 اکتوبر 2019م KSA 07:15 - GMT 04:15
علی صالح پرحملے کے ملزمان کی رہائی پرحوثیوں کی صفوں میں پھوٹ
العربیہ ڈاٹ نیٹ ۔ اوسان سالم

یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا اور ان کے اتحادی جنرل پیپلز کانگریس کے درمیان ایک بار پھر اختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔ تازہ اختلافات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حوثیوں نے ایوانِ صدرکی مسجد میں بم دھماکے اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کو نشانہ بنانے میں ملوث عناصر کو رہا کیا ہے۔

صنعا میں حوثیوں کے ساتھ اتحاد جنرل پیپلز کانگریس (جی پی سی) نے اتوار کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ نام نہاد سپریم پولیٹیکل کونسل کی تمام سرگرمیوں کا بائیکاٹ کرے گی۔ پیپلز کانگریس بین الاقوامی سطح پرغیر تسلیم شدہ حکومت ، اور پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں اور دیگر تمام سرگرمیوں کا بائیکاٹ کرے گی۔

یہ بات پارٹی کے صدر صادق امین ابو راس کی زیر صدارت منعقدہ جنرل کمیٹی کے اجلاس کے دوران سامنے آئی۔ پارٹی کی ویب سائٹ کے مطابق ، صدارتی محل کی مسجد میں بم دھماکے کے الزام میں ملوث حوثیوں کی رہائی کے خلاف بہ طور احتجاج پیپلز کانگریس نے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے۔ گرفتار کیے گئے ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے سنہ 2011ء میں مقتول صدر علی عبد اللہ صالح اوردیگر رہ نماؤں کو نشانہ بنایا تھا۔

صادق امین ابو راس نے سابق صدر اور دیگر رہ نمائوں پرحملوں میں ملوث عناصر کی رہائی کی مذمت کرتے ہوئے ان کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ دہشت گردی کا کیس ہے۔ ملزمان کے خلاف کیس عدالت میں زیر التوا ہے۔ اس لیے ان کی رہائی غیرقانونی ہے۔ ملزمان کی رہائی پر جی پی سی نے پولیٹیکل کونسل ، ایوان نمائندگان ، کابینہ اور شوریٰ کونسل کی تمام سرگرمیوں کے بائیکاٹ کی منظوری دے دی۔

خیال رہے کہ حال ہی میں حوثی ملیشیا نے سنہ 2011ء کو ایوان صدر کی مسجد میں بم دھماکے کے پانچ ملزمان رہا کردیے تھے۔ ان حملوں کے نتیجے میں متعدد حکومتی عہدیدار ہلاک اور سابق صدرعلی صالح سمیت کئی زخمی ہو گئے تھے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند