تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے پر کاربند ہیں : اردن
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 11 ربیع الثانی 1441هـ - 9 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: منگل 14 ربیع الاول 1441هـ - 12 نومبر 2019م KSA 10:32 - GMT 07:32
اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے پر کاربند ہیں : اردن
اردن کے وزیر خارجہ ایمن الصفدی
عمّان – ایجنسیاں

اردن کے وزیر خارجہ ایمن الصفدی کا کہنا ہے کہ ان کا ملک اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے پر کاربند ہے اگرچہ 25 برس پرانا سمجھوتا اختتام پذیر ہو چکا ہے جس کے تحت اسرائیل کو اردن کے زیر اختیار اراضی کے دو علاقوں الباقورہ اور الغمر کو استعمال کرنے کی اجازت دی گئی۔

الصفدی نے پیر کی شب ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں کو بتایا کہ اردن نے معاہدے کے تحت تصرف کیا اور اب سرحد کے نزدیک واقع دونوں علاقوں کے حوالے سے سمجھوتے کی تجدید نہیں کی گئی۔

ادھر اردن کے فرماں روا شاہ عبداللہ دوم نے پیر کے روز ملک کے شمال میں واقع علاقے الباقورہ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر اُن کے ہمراہ ولی عہد شہزادہ حسین بھی تھے۔ یہ دورہ اس علاقے پر اسرائیلی تصرف کا حق ختم ہونے کے ایک روز بعد کیا گیا۔

شاہی دفتر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق الباقورہ پہنچنے پر اردن کی مسلح افواج کے سربراہ اور دیگر سینئر افسران نے شاہ عبداللہ اور شہزادہ حسین کا استقبال کیا۔

اس موقع پر نارتھ ملٹری زون کے کمانڈر کی جانب سے ایک بریفنگ پیش کی گئی۔ بریفنگ میں اس علاقے کی تاریخی، جغرافیائی اور تزویراتی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔

اس سے قبل اتوار کے روز اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے اسرائیل کو پٹے پر دیے گئے دو قطعاتِ اراضی پر اپنی مکمل "خود مختاری" کا اعلان کردیا تھا۔ اردن نے اسرائیل کو یہ اراضی 1994 میں دونوں ملکوں کے درمیان طے شدہ تاریخی امن معاہدے کے تحت پچیس سال کے لیے لیز پر دی تھی۔

اسرائیلی کاشت کاروں کو پیر کے روز اردن کے سرحدی علاقے میں داخل ہونے کی اجازت بھی نہیں دی گئی کیوں کہ اسرائیلی کاشت کاروں کوجس سمجھوتے کے تحت وہاں کام کے لیے آنے کی اجازت دی گئی تھی، اس کی مدت اتوار کے روز ختم ہو چکی ہے۔ البتہ اردن کی وزارت خارجہ میں ایک سرکاری ذریعے نے بتایا کہ تل ابیب میں اردن کے سفارت خانے سے ویزا حاصل کرنے کے بعد اسرائیلی کاشت کاروں کو صرف ایک بار اس بات کی اجازت دی جائے گی کہ وہ اپنی کاشت کی ہوئی سبزیوں کو کاٹ لیں۔

یاد رہے کہ 26 اکتوبر 1994 کو طے پانے والے وادیِ عربہ کے معاہدے کی بدولت دونوں ملکوں کے بیچ کئی دہائیوں سے جاری حالت جنگ کا خاتمہ ہو گیا تھا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند