تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
عراق: اغوا کی کارروائیوں نے خواتین کارکنان کو بھی لپیٹ میں لے لیا
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 15 ربیع الثانی 1441هـ - 13 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: بدھ 15 ربیع الاول 1441هـ - 13 نومبر 2019م KSA 08:29 - GMT 05:29
عراق: اغوا کی کارروائیوں نے خواتین کارکنان کو بھی لپیٹ میں لے لیا
دبئی – العربیہ ڈاٹ نیٹ

عراق میں سرگرم خاتون کارکن ماری محمد کے لا پتہ ہونے کی خبر سوشل میڈیا پر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ وہ عراق میں جاری احتجاجی مظاہروں میں شریک رہیں اور انہوں نے دھرنا دینے والوں کی مدد کے حوالے سے شہرت پائی جو حکومت کے خاتمے اور ابتر معاشی حالات کی بہتری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ٹویٹر پر سوشل میڈیا کے حلقوں نے بتایا ہے کہ ماری چار روز سے لا پتہ ہیں۔ وہ گذشتہ ماہ شروع ہونے والے مظاہروں کے بعد لا پتہ ہونے والی دوسری خاتون کارکن ہیں۔

اس سے قبل ہنگامی طبی امداد فراہم کرنے والی کارکن صبا المہداوی بھی لا پتہ ہو چکی ہیں اور ان کے بارے میں کسی کو علم نہیں۔ انہیں دارالحکومت بغداد میں 2 نومبر کو اغوا کر لیا گیا تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق 3 گاڑیوں میں سوار نامعلوم مسلح افراد نے یہ کارروائی اُس وقت کی جب صبا التحریر اسکوائر میں زخمی مظاہرین کو طبی امداد فراہم کر رہی تھیں۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے گذشتہ جمعے کے روز عراقی حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ صبا المہداوی کے انجام کے بارے میں انکشاف کرے۔ تنظیم کے مطابق مذکورہ خاتون کارکن کا اغوا عراق میں ازادی اظہار کا گلا گھونٹنے کی مہم کا حصہ ہے۔

عراقیوں نے ماری محمد کے لا پتہ ہونے کی سخت مذمت کرتے ہوئے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ماری کی جگہ کا تعین کرنے اور اسے رہا کرانے کے لیے کام کرے۔

ادھر بعض مظاہرین نے ایران نواز ملیشیاؤں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ عراق کے وسطی اور جنوبی صوبوں میں مظاہروں کے دوران کارکنان اور بلاگرز کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں کر رہی ہیں۔

عراق میں احتجاج کی لہر اٹھنے کے بعد سے کارکنان کو دھمکیوں اور گرفتاری کا سامنا ہے۔ حکام نے احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے کے لیے ضرورت سے زیادہ تشدد کا سہارا لیا جس کے نتیجے میں درجنوں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

عراق میں احتجاج کے آغاز کے بعد سے اب تک لا پتہ ہونے والے مظاہرین اور سرگرم کارکنان کی تعداد 26 کے قریب ہو چکی ہے۔ ان کے علاوہ بغداد اور بصرہ میں تین کارکنان ہلاک بھی ہوئے جب کہ ملک کے جنوب اور وسطی علاقوں میں 400 کے قریب گرفتاریاں عمل میں آئیں۔ گرفتار ہونے والوں میں کارکنان، مظاہرین اور بلاگرز شامل ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند