تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایران: عوامی احتجاج نے پھر سے سر اٹھا لیا، مظاہرین پر فائرنگ سے ایک شخص ہلاک
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 15 ربیع الثانی 1441هـ - 13 دسمبر 2019م
آخری اشاعت: ہفتہ 18 ربیع الاول 1441هـ - 16 نومبر 2019م KSA 10:52 - GMT 07:52
ایران: عوامی احتجاج نے پھر سے سر اٹھا لیا، مظاہرین پر فائرنگ سے ایک شخص ہلاک
العربیہ ڈاٹ نیٹ - صالح حميد

ایران میں پٹرول کی قیمتوں میں 200% کے ہوش ربا اضافے کے بعد کئی شہروں میں عوام کا احتجاج جاری ہے۔ اسی دوران سیرجان شہر میں مظاہرین پر سیکورٹی فورسز کی اندھادھند فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ وسطی ایران کے اس شہر میں ایک فیول اسٹیشن کو آگ لگا دی گئی۔

جمعے کو رات گئے تک ملک کے مختلف صوبوں میں لوگ مجمع کی شکل میں سڑکوں پر موجود رہے۔ اس دوران سوشل میڈیا کے ذریعے کال دی گئی کہ ہفتے کی صبح ایران کے تمام صوبوں میں مقامی وقت کے مطابق 10 بجے احتجاج کیا جائے۔

دارالحکومت تہران کے مغرب میں واقع قصبے قلعہ حسن خان میں مظاہرین کی سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔ سیکورٹی فورسز کے دھاوے کے بعد مظاہرین نے ان پر پتھراؤ کیا تھا۔

سوشل میڈیا پر نشر ہونے والے وڈیو کلپوں کے مطابق دارالحکومت تہران میں گاڑیوں کی ایک بڑی تعداد ہارن بجاتے ہوئے سڑکوں پر آ گئی اور راستہ بند کرنے کے لیے گاڑیوں کو سڑکوں کے بیچ کھڑا کر دیا گیا۔

عرب اکثریتی آبادی والے شہر الاہواز میں سوشل میڈیا کارکنان نے ایک وڈیو کلپ وائرل کیا جس میں اسلحے سے لیس سیکورٹی فورسز فائرنگ کرتے ہوئے مظاہرین کو دور بھگا رہی ہیں۔ اسی طرح مظاہرین کی جانب سے شہر کے داخلی راستوں کو بند کر دینے کی بھی اطلاعات ہیں۔

الاہواز صوبے کے جنوب میں ساحلی شہر معشور کے مختلف علاقوں میں مشتعل نوجوانوں نے ٹائر جلا کر راستوں کو بند کر دیا۔ فارس صوبے کے مرکز شیراز شہر میں متعدد نوجوانوں نے سڑک پر آگ لگا کر راستہ بند کر دیا اور سڑکوں کے بیچ اپنی گاڑیاں پارک کر دیں۔ ایران کے شمال مشرقی صوبے خراسان کے مرکز مشہد شہر میں سیکورٹی فورسز نے مظاہرین پر حملہ کیا اور سڑکوں پر اُن کی گاڑیوں کے شیشے توڑ ڈالے۔

المحمرہ میں ہزاروں افراد شہر کے وسط میں ایک کھلے مقام پر جمع ہو گئے اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کیا۔

ہبہان شہر میں درجنوں نوجوانوں نے نعروں میں کہا "ہم ذلت قبول نہیں کریں گے .. ہم اپنے حقوق کا مطالبہ ہر صورت کریں گے"۔

شیبان شہر میں ایرانیوں نے الاہواز اور تستر شہر کے بیچ مرکزی راستے کو ٹائر جلا کر اور سڑک کے بیچ گاڑیاں کھڑی کر کے بند کر دیا۔

یاد رہے کہ ایران میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ نافذ العمل ہونے کے بعد جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب متعدد شہروں میں عوامی احتجاج دیکھنے میں آیا۔ اس موقع پر سڑکوں پر شہریوں کی گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں جنہوں نے نئے نرخوں پر ایندھن بھروانے سے انکار کر دیا۔ شہریوں نے حکومت سے اس فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

 

ایران میں حکام کے نئے فیصلے کے مطابق پٹرول کی فی لیٹر قیمت 3 ہزار ایرانی تومان (تقریبا 36 سینٹ) ہو گئی ہے۔ پٹرول کی سابقہ قیمت 1 ہزار ایرانی تومان (تقریبا 12 سینٹ) تھی۔

ایران میں سوشل میڈیا پر کئی تصاویر اور وڈیو کلپ وائرل ہو رہے ہیں جن میں اصفہان، الاہواز اور ارومیہ میں سیکڑوں شہریوں کو پٹرول اسٹیشنوں پر طویل قطاروں میں کھایا گیا ہے۔ اسٹیشنوں کے نزدیک سیکورٹی فورسز اور ہنگامہ آرائی کے انسداد کی فورسز کے اہل کار بڑی تعداد میں تعینات کر دیے گئے ہیں۔

ایران کو پابندیوں کے سبب ایک بڑے اقتصادی بحران کا سامنا ہے۔ ایرانی حکومت 21 مارچ سے شروع ہونے والے آئندہ عام بجٹ میں خام تیل کی آمدنی کا حصہ صفر تک جانے کے مسئلے کا حل تلاش کر رہی ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند