تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
عراق میں نئے وزیراعظم کی نامزدگی کے سلسلے میں قاسم سلیمانی اور حزب اللہ بھی سرگرم
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 27 جمادی الثانی 1441هـ - 22 فروری 2020م
آخری اشاعت: بدھ 6 ربیع الثانی 1441هـ - 4 دسمبر 2019م KSA 10:49 - GMT 07:49
عراق میں نئے وزیراعظم کی نامزدگی کے سلسلے میں قاسم سلیمانی اور حزب اللہ بھی سرگرم
العربیہ ڈاٹ نیٹ - ایجنسیاں

عراق میں مظاہرین نے ایک بار پھر اپنے ملک میں ایرانی مداخلت کے خلاف غصے کا اظہار کیا ہے۔ اس دوران منگل اور بدھ کی درمیانی شب نجف میں ایرانی قونصل خانے میں تیسری مرتبہ آگ لگائے جانے کا واقعہ رونما ہوا۔

ادھر دارالحکومت بغداد میں نئی حکومت کی تشکیل کے لیے مستعفی وزیراعظم عادل عبدالمہدی کے متبادل کی نامزدگی کے واسطے سیاست ہلچل کا آغاز ہو گیا۔ عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد الحلبوسی نے منگل کی شام عراقی صدر سے درخواست کی کہ وہ 15 روز کے اندر وزارت عظمی کے لیے امیدوار نامزد کر دیں۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق لبنانی تنظیم حزب اللہ بھی عراق میں نئی حکومت کی تشکیل کے عمل میں اپنے طور پر سرگرم ہو گئی ہے۔

بغداد میں فیصلہ ساز اداروں کے مقرب ایک عراقی ذریعے نے بتایا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب میں القدس فورس کا سربراہ قاسم سلیمانی اور حزب اللہ میں عراق کے امور کا ذمے دار محمد کوثرانی مستعفی وزیراعظم عادل عبدالمہدی کا جاں نشیں نامزد کروانے کے لیے کوشاں ہیں۔ مذکورہ ذریعے کے مطابق سلیمانی اس وقت بغداد میں موجود ہے جب کہ کوثرانی بھی اس حوالے سے شیعہ اور سنی سیاسی قوتوں کو قائل کرنے میں بڑا کردار ادا کر رہا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بغداد اور عراق کے کئی جنوبی شہروں میں گذشتہ دو روز کے دوران حکام کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔ عراقی عوام یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے ملک پر ایران کا سب سے زیادہ نفوذ ہے بالخصوص جب کہ اس وقت القدس فورس کا سربراہ سلیمانی عراق میں موجود ہے۔

عادل عبدالمھدی

یاد رہے کہ ایک طرف سیاسی قوتیں مستعفی وزیراعظم کا متبادل تلاش کرنے میں مصروف ہیں تو دوسری طرف عراقی پارلیمنٹ ایک نئے انتخابی قانون کو زیر غور لا رہی ہے۔ اس قانون کے نتیجے میں پارلیمنٹ میں ارکان کی تعداد کم اور نمائندگی وسیع ہو جائے گی۔

تاہم مظاہرین کے حوالے سے یہ امر ناکافی ہے جو عہدوں کی تقسیم میں فرقہ وارانہ کوٹے کے نظام کا خاتمہ چاہتے ہیں یہاں تک کہ بعض تو پارلیمانی نظام کو ہی ختم کر دینے کے خواہاں ہیں۔

یکم اکتوبر سے عراق میں جاری عوامی احتجاج کی ابتدا میں مظاہرین نے روزگار کے مواقع اور خدمات عامہ کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔ بعد ازاں ان مطالبات میں سیاسی نظام کی مکمل اصلاح بھی شامل ہو گئی۔اس سیاسی نظام کی بنیاد 2003 میں صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد امریکا نے رکھی تھی۔

مظاہرین کا ایک بنیادی مطالبہ ملک میں سیاسی طبقے کی تبدیلی ہے جس پر بدعنوانی اور ملکی دولت اڑا دینے کا الزام ہے۔ واضح رہے کہ عراق کا شمار تیل کے لحاظ سے دنیا کے دولت مند ترین ممالک میں ہوتا ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند