تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
حلب میں ترکی کے فوجی قافلے پر کار بم حملہ، متعدد فوجی ہلاک اور زخمی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 23 جمادی الاول 1441هـ - 19 جنوری 2020م
آخری اشاعت: جمعرات 7 ربیع الثانی 1441هـ - 5 دسمبر 2019م KSA 07:49 - GMT 04:49
حلب میں ترکی کے فوجی قافلے پر کار بم حملہ، متعدد فوجی ہلاک اور زخمی
دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

شامی میڈیا اور شام کی آبزرویٹری برائے ہیومن رائٹس کے مطابق بدھ کی شام حلب کے نواحی علاقے میں ترکی کے ایک فوجی کانوائے کو بارود سے بھری ایک کار سے نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں متعدد فوجی ہلاک اور زخمی ہوگئے۔ یہ واقعہ جرابلس شہر میں اس وقت پیش آیا جب فوجی قافلہ البلدق فوجی اڈے کی طرف جا رہا تھا۔

اطلاعات کے مطابق اس دھماکے کے نتیجے میں متعدد ترک فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے زخمیوں کو ترکی کے علاقے میں منتقل کردیا گیا تھا۔ انسانی حقوق گروپ کے مطابق واقعے کے بعد اس علاقے میں ترکی کے جنگی طیاروں کی پروازیں بھی دیکھی گئیں۔

تُرکی کی وزارت دفاع کے مطابق گذشتہ پیر کو شام کی سرزمین پر ترک فوج کے زیر قبضہ علاقے میں شامی کرد جنگجوؤں نے مارٹر گولے فائر کیے جس کے نتیجے میں ساہی مارا گیا تھا۔

ترک وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ مارٹر گولہ کہاں سے داغا گیا تھا تاہم ترک فوجیوں نے اس علاقے میں جوابی کارروائی کی ہے۔

شامی آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق پیر کے روز شمالی شام کے صوبہ حلب کے کرد باغیوں کے زیر قبضہ شہر تل رفعت پر ترک توپ خانے کی گولہ باری سے شہری جن میں 15 سال سے کم عمر کے آٹھ بچے بھی شامل تھے ہلاک ہوگئے۔

آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبد الرحمن نے بتایا کہ ترک گولہ باری سے ایک اسکول کے قریب علاقے کو نشانہ بنایا گیا۔ اس وقت بچے اسکول سے باہر تھے۔ ترک فوجیوں کی شیلنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونےوالے متعدد پناہ گزین بھی شامل ہیں جو سنہ 2018ء کو عفرین کے علاقے سے نقل مکانی کرکے وہاں پہنچے تھے۔ آبزرویٹری کے مطابق ترکی کی گولہ باری سے 21 افراد زخمی ہوئے۔

ترک فورسز اور شام کے حامی دھڑوں نے گذشتہ سال اس علاقے میں ایک کاروائی شروع کی تھی جس کے بعد دسیوں ہزاروں افراد عفرین سے فرار ہو گئے تھے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند