تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
الحشد ملیشیا پر پابندیاں عراق اور ایران کے لیے ایک پیغام ہے: امریکی وزارت خارجہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 25 جمادی الثانی 1441هـ - 20 فروری 2020م
آخری اشاعت: ہفتہ 9 ربیع الثانی 1441هـ - 7 دسمبر 2019م KSA 10:11 - GMT 07:11
الحشد ملیشیا پر پابندیاں عراق اور ایران کے لیے ایک پیغام ہے: امریکی وزارت خارجہ
امریکی وزیر خارجہ کے معاون ڈیوڈ شنکر
العربیہ ڈاٹ نیٹ

امریکی وزیر خارجہ کے معاون ڈیوڈ شنکر کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے مظاہرین کے قتل یا بدعنوانی کے الزام میں چار عراقی ذمے داران پر عائد پابندیاں "عراقی حکومت اور ایران کے لیے بھی ایک پیغام ہے"۔ انہوں نے یہ بات العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہی۔

شنکر نے زور دے کر کہا کہ ان کا ملک عراقی مظاہرین کی حمایت کرتا ہے جو اپنی حکومت سے اصلاحات وار بدعنوانی کے خلاف لڑنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ شنکر نے امریکی پابندیوں کی فہرست میں مزید عراقی ذمے داران کے ناموں کے اندراج کو خارج از امکان قرار نہیں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم مذکورہ فہرست پر مسلسل نظر ثانی کر رہے ہیں"۔

امریکی وزیر خارجہ کے معاون نے واضح کیا کہ "ہم عراق اور لبنان کے معاملات میں مداخلت نہیں کر رہے اور نہ اس بات کا فیصلہ کر رہے ہیں کہ آئندہ وزیراعظم کون ہو گا۔ اسی طرح ہم عراق میں دہشت گرد ملیشیائیں یا تنظیمیں تشکیل نہیں دے رہے ، یہ کام ایران کر رہا ہے"۔

اس سلسلے میں شنکر نے کہا کہ "ایرانی پاسداران انقلاب کی ذیلی تنظیم القدس فورس کا کمانڈر قاسم سلیمانی عراق کی خود مختاری پامال کرنے کا اپنا ریکارڈ رکھتا ہے۔ وہ اگلا عراقی وزیراعظم چننے کے لے بغداد میں موجود ہے، ہم اس امر کو مسترد کرتے ہیں۔ سلیمانی سلامتی کونسل کی جانب سے خود پر عائد سفری پابندی کی خلاف ورزی کر رہا ہے"۔ شنکر کے مطابق واشنگٹن عراق میں سلیمانی کو گرفتار کرنے کے اختیارات نہیں رکھتا ہے البتہ عراقی حکومت سلامتی کونسل کے فیصلے کے مطابق سلیمانی کو گرفتار کر سکتی ہے۔

نجف میں ایرانی قونصل خانے کو آگ لگائے جانے کے حوالے سے شنکر کا کہنا تھا کہ "ہم قونصل خانوں کو نذر آتش کرنے کی تائید نہیں کرتے مگر عراقی عوام جانتے ہیں کہ انہیں درپیش مسائل کا سبب کون ہے اس وجہ سے انہوں نے قونصل خانے کو آگ لگائی"۔

امریکا نے جمعے کے روز تین عراقی شخصیات قيس الخزعلی، ليث الخزعلی اور حسين عزيز اللامی پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا۔ ان تمام افراد کا تعلق ایران کی مقرب ملیشیا الحشد الشعبی میں شامل مسلح گروپوں کی قیادت سے ہے۔ اسی طرح ایک سیاسی شخصیت خمیس العیساوی پر بھی "عراقی عوام کے کھاتے میں بدعنوانی" کے الزام میں پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

امریکی قانون کے تحت ان پابندیوں کے سبب مذکورہ تینوں عراقی شخصیات پر امریکا کا سفر کرنا ممنوع ہو گا اور ان کی ملکیت میں کسی بھی قسم کے اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے۔

اس سے قبل جمعے کے روز واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس میں امریکی وزیر خارجہ کے معاون ڈیوڈ شنکر نے کہا کہ "ہم (عراق کے) پڑوسیوں پر عدم مداخلت کے لیے زور دیتے ہیں اور چاہتے ہیں ہو ملک کے آئین کو سبوتاژ نہ کریں"۔ ان کا کہنا تھا کہ القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی بغداد میں موجودگی معمول کا امر نہیں اور یہ عراق کی خود مختاری کی بڑی خلاف ورزی ہے"۔ شنکر کے مطابق امریکی انتظامیہ ہر اُس فریق کے ساتھ کام کرے گی جو عراقی حکومت میں سب سے پہلے عراق کے مفادات کو ترجیح دے گا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند