تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
دہشت گردی کے سرپرست ممالک میں ایران کا پہلا نمبر ہے: عادل الجبیر
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 30 محرم 1442هـ - 18 ستمبر 2020م
آخری اشاعت: ہفتہ 9 ربیع الثانی 1441هـ - 7 دسمبر 2019م KSA 11:28 - GMT 08:28
دہشت گردی کے سرپرست ممالک میں ایران کا پہلا نمبر ہے: عادل الجبیر
روم - رفعت النجار

سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور عادل الجبیر کا کہنا ہے کہ دنیا میں دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والا سب سے بڑا ملک ایران ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ہم یہ بات کئی برس سے کر رہے ہیں اور اسی واسطے ایران کو عالمی برادری کی جانب سے پابندیوں کا سامنا ہے"۔

سعودی وزیر نے یہ بات اطالوی دارالحکومت روم میں جمعے کو Mediterranean Forum کے موقع پر "العربیہ" سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

الجبیر کے مطابق ایران ایسا ملک ہے جو سفارت کاروں کو ہلاک کرتا ہے، سفارت خانوں پر حملہ کرتا ہے، دہشت گرد گروپ تشکیل دیتا ہے، مختلف ملکوں میں تخریب کاری انجام دیتا ہے اور دہشت گرد تنظیموں کو بیلسٹک میزائل فراہم کرتا ہے جن کے ذریعے شہروں اور دیہاتوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے"۔

اس سے قبل عادل الجبیر نے جمعہ کے روز کہا کہ ایران پورے خطے کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے اور اس کی جارحیت کو اب مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ روم میں ایک ڈائیلاگ کانفرنس سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ "ہم ایران پر پابندیوں کے ذریعے سخت دباؤ ڈالنے کی پالیسی کی حمایت کرتے ہیں"۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران کو ان ہتھیاروں اور آلات سے محروم رہنا چاہیے جو خطے اور دنیا کے لیے خطرے کا باعث بنتے ہیں۔ سعودی وزیر مملکت برائے خارجہ امور کا کہنا تھا کہ ایرانی پاسداران انقلاب اپنے ملک سے باہر انقلاب برآمد کرنے کے اصول پر کام کر رہی ہے۔ ایران دوسرے ممالک اور ریاستوں کی خود مختاری کا احترام نہیں کرتا۔ ہمیں ایران کے ساتھ سختی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ جہاں تک ایران کے ساتھ جنگ کی بات ہے تو کوئی بھی جنگ نہیں چاہتا۔

یاد رہے کہ ایران اور اس کی جانب سے عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمیاں روم میں Mediterranean Forum کا مرکزی موضوع رہا۔ فورم کے تمام شرکاء نے اس بات پر اتفاق رائے کیا کہ ایران اپنی ملیشیاؤں کے ذریعے خطے کے ممالک میں دہشت گردی کے واسطے کروڑوں ڈالر خرچ کر رہا ہے۔

خطے اور دنیا بھر میں ایران کی دہشت گرد مداخلت کے سبب پہلی مرتبہ ایران کے وزیر خارجہ کو Mediterranean Forum میں شرکت سے دور رکھا گیا ہے۔ اس فورم میں ایران کی جانب سے عرب دنیا میں تشدد، خون ریزی اور جنگوں کے ذریعے عدم استحکام پھیلانے کا موضوع زیر بحث آیا۔ اس کے علاوہ تہران کی جانب سے انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیوں پر بھی بات چیت ہوئی۔

فورم کے دوران متفقہ طور پر یہ موقف سامنے آیا کہ ایرانی دہشت گردی کے حوالے سے پانی سر سے اونچا ہو چکا ہے اور اب اس پر قابو پانے کے لیے عالمی برادری کے سخت ارادے کی ضرورت ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند