تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایران کے غریب عوام کا احتجاج پھر سے سر اٹھا سکتا ہے : اپوزیشن رہ نما
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 12 صفر 1442هـ - 30 ستمبر 2020م
آخری اشاعت: پیر 11 ربیع الثانی 1441هـ - 9 دسمبر 2019م KSA 11:06 - GMT 08:06
ایران کے غریب عوام کا احتجاج پھر سے سر اٹھا سکتا ہے : اپوزیشن رہ نما
العربیہ ڈاٹ نیٹ - جوان سوز

ایران کے ایک محقق اور اپوزیشن شخصیت نے زور دے کر کہا ہے کہ 15 نومبر کو ایران کے مختلف شہروں میں پانچ روز تک جاری مظاہرے اقتصادی اور سیاسی وجوہات کی بنا پر ایک بار پھر "مزاحمتی تحریک" کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔

بیرون ملک اپوزیشن جماعت "ڈیموکریٹک فرنٹ" کے سکریٹری عباس خرسندی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ "2017 میں ہونے والے عوامی احتجاج کے بعد ایران میں مظاہرین کو سڑکوں پر موت کے گھاٹ اتارا گیا اور جیلوں میں تشدد کے ذریعے موت کی نیند سلا دیا گیا۔ ملک میں گذشتہ ماہ ہونے والے عوامی احتجاج کے دوران بھی اسی طرح ہوا"۔

خرسندی کے مطابق عوامی احتجاج کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں مظاہرین کا بہتر معاشی حالات اور شخصی آزادی کا مطالبہ شامل ہے۔ یہ امور مستقبل میں عوامی احتجاج کو ایران میں حکمراں نظام کے خلاف حقیقی انقلاب میں بدل سکتے ہیں۔

خرسندی نے واضح کیا کہ "احتجاج میں عام طور پر دو طبقے بڑی تعداد میں شریک ہوتے ہیں۔ ان میں ایک غریب طبقہ اور دوسرا مڈل کلاس طبقہ ہے۔ اگر آخر الذکر ناکام ہو کر احتجاج کا سلسلہ روک بھی دے تو محروم طبقہ پھر بھی مظاہرے جاری رکھتا ہے۔ بالخصوص یہ بڑی تعداد میں ہیں اور صدر حسن روحانی کے اعداد و شمار کے مطابق ایران کی عام آبادی میں ان کا تناسب تقریبا 70% تک پہنچا ہوا ہے۔ لہذا مجھے توقع ہے کہ یہ لوگ ایک بار پھر مظاہروں کے لیے لوٹ آئیں گے اور اپنی آزادی کے واسطے انقلاب کی قیادت کریں گے"۔

خرسندی اپنے ملک کی حکومت کی مخالفت کی پاداش میں آٹھ برس جیل میں گزار چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ "اگرچہ اقتصادی بحران نے حالیہ احتجاج میں بڑا کردار ادا کیا تاہم عوام کا غیض و غضب بھڑکانے کا مرکزی سبب ایرانی حکمراں نظام کا رویہ ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں سیاسی اور سیکورٹی استحکام کا عدم وجود بھی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نظریاتی نظام اور اس کے مذہبی حکام سیکولر طریقے سے حکومت نہیں کر سکتے"۔

خرسندی کے مطابق ایران پر عائد پابندیاں حکمران طبقے کے لیے خطرہ بن گئیں، پابندیوں نے سیاسی نظام پر دباؤ ڈالا اور مالیاتی طور پر مفلوج ہونے کا سبب بنیں۔ تاہم ساتھ ہی ان پابندیوں نے ایرانی مظاہرین میں تحریک پیدا کر دی جو حکومت پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ ان کے مطالبات پورے کیے جائیں۔

ایرانی اپوزیشن شخصیت کا کہنا ہے کہ "ایرانی عوام اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ حالیہ مظاہروں کے دوران عسکری فورسز کی جانب سے مرتکب اجتماعی قتل و غارت کے بعد حکمراں نظام کے سیاسی ڈھانچے کی اصلاح ہر گز ممکن نہیں لہذا اب مظاہرین کے سامنے ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے حکمراں نظام کا مکمل سقوط ... اسی وجہ سے مظاہرین امریکی انتظامیہ کے بیانات کو مسرت کے ساتھ جائزہ لے رہے ہیں"۔

خرسندی کے مطابق ایران کو اس حال تک پہنچانے میں اس کی تباہ کن پالیسیوں کا بڑا ہاتھ ہے۔ ان میں پڑوسی عرب ممالک کے امور میں مداخلت اور مشرق وسطی کے بعض ممالک میں براہ راست عسکری مداخلت شامل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تہران کے خلاف عراق، لبنان اور خود ایران کے اندر احتجاج ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ہم ایرانی عوام کی احتجاجی تحریک کی حوصلہ افزائی کے لیے مؤثر طور پر کوشاں ہیں۔ ہم ان کے ساتھ ہیں اور ملک پر مسلط جبر و استبداد کے نظام کے خلاف ایرانی عوام کی مزاحمت میں ان کے بیچ موجود ہیں"

خرسندی کے مطابق ان کی پارٹی کے سکریٹری جنرل اور نمایاں ایرانی اپوزیشن شخصیت حشمت اللہ طبرزدی جنہوں نے 12 برس ایرانی جیلوں میں گزارے ،،، پارٹی پر عائد پابندیوں کے باوجود حشمت اللہ ابھی تک ایران میں مقیم ہیں اور ایرانی انٹیلی جنس کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند