تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
شقی القلب فلسطینی باپ نے نوجوان بیٹی کو زندہ درگور کر ڈالا
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 26 جمادی الاول 1441هـ - 22 جنوری 2020م
آخری اشاعت: پیر 11 ربیع الثانی 1441هـ - 9 دسمبر 2019م KSA 12:03 - GMT 09:03
شقی القلب فلسطینی باپ نے نوجوان بیٹی کو زندہ درگور کر ڈالا
دبئی – العربیہ ڈاٹ نیٹ

غزہ پٹی میں نوجوان فلسطینی لڑکی کی موت کا واقعہ گذشتہ دو روز کے دوران سوشل میڈیا بالخصوص خواتین کے خلاف تشدد کی مخالف ویب سائٹوں پر چھایا رہا۔

غزہ پٹی کے شمالی شہر بیت لاہیا سے تعلق رکھنے والی بدقسمت ایمان النمنم کو کسی اور نے نہیں بلکہ اس کے اپنے باپ نے موت کی نیند سلا دیا۔ ایمان کے باپ نے اپنی بیٹی کی جان لینے کے لیے اسے گھر سے کچھ فاصلے پر ڈیڑھ میٹر گہرے گڑھے میں زندہ دفن کر دیا تھا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل اگست میں بھی غزہ پٹی میں ایک اور فلسطینی لڑکی اسراء غریب کی زندگی کا چراغ اس کے اپنے گھر والوں نے بجھا دیا تھا۔

عربی ویب سائٹ "شريكة ولكن" کے مطابق ایمان کی کہانی کا آغاز رواں سال ستمبر میں اس وقت ہوا جب وہ اچانک لا پتہ ہو گئی۔ ایمان کے والد کی جانب سے یہ بات پھیلائی گئی کہ وہ اپنی بیمار ماں کے علاج کی غرض سے اردن چلی گئی ہے۔

البتہ ایمان کی 13 سالہ چھوٹی بہن نے اس کہانی کا یقین نہ کیا اور اپنی ایک اسکول ٹیچر سے اس حوالے سے شکوک کا اظہار کیا۔ خاتون ٹیچر نے غزہ پٹی میں بچوں کے تحفظ کے نیٹ ورک کو اس کی اطلاع پہنچا دی۔

پولیس کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ لا پتہ ہونے والی ایمان اپنی ماں کے ساتھ کسی بھی سرحدی گذر گاہ سے نہیں گزری۔ اس کے نتیجے میں ایمان کے والد پر شک کی انگلیاں اٹھنے لگیں جس نے اس سفر کی کہانی پھیلائی تھی۔

بعد ازاں تحقیقات کے دوران دباؤ کے نتیجے میں ایمان کے 52 سالہ باپ نے اعتراف کر لیا کہ اس نے اپنی بیٹی کو 17 ستمبر کی صبح زندہ دفن کر دیا تھا۔

یاد رہے کہ غزہ میں خواتین کے امور کے مرکز نے اکتوبر میں مطالبہ کیا تھا کہ ایمان کی موت کے بارے میں تفصیلات کا جلد انکشاف کیا جائے اور واقعے کے ذمے داروں کو حراست میں لے کر ان کا احتساب کیا جائے۔

مذکورہ مرکز کے مطابق رواں سال 2019 میں فلسطینی خواتین اور لڑکیوں کے خلاف قتل کے 20 کیسوں کی تصدیق ہوئی۔ ان میں 16 کیس مغربی کنارے اور 4 کیس غزہ پٹی کے ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند