تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
غیرملکی پریشان نہ ہوں، حکومت کوئی نیا ٹیکس نہیں لگا رہی: سعودی وزیر خزانہ
آرامکو کی پیشکشوں کے بعد تیل کی آمدنی میں کوئی کمی نہیں آئی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 25 جمادی الاول 1441هـ - 21 جنوری 2020م
آخری اشاعت: منگل 12 ربیع الثانی 1441هـ - 10 دسمبر 2019م KSA 07:29 - GMT 04:29
غیرملکی پریشان نہ ہوں، حکومت کوئی نیا ٹیکس نہیں لگا رہی: سعودی وزیر خزانہ
آرامکو کی پیشکشوں کے بعد تیل کی آمدنی میں کوئی کمی نہیں آئی
العربیہ ڈاٹ نیٹ

سعودی عرب کے وزیر خزانہ محمد الجدعان نے 'العربیہ' چینل کوانٹرویو دیتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مملکت میں 'سٹی زن اکاؤنٹ' پروگرام سنہ 2020ء میں بدستور جاری رہےگا۔ انہوں نے غیرملکی تارکین وطن اور ملک میں ملازمت کرنے والے غیرملکیوں کو یقین دلایا ہے کہ ان پر کوئی نیا ٹیکس لاگو نہیں کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ سٹی زن اکائونٹ پروگرام میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ اس پروگرام کے تحت شہریوں کو رقوم کی فراہمی آئندہ سال بھی معمول کے مطابق جاری رہے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ معاشرتی تحفظ کے نظام کے مطالعے کی روشنی میں پروگرام کی مدت کی تکمیل کا اعلان کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ رواں اور آئندہ دو سالوں کے درمیان بجٹ میں شہری الاؤنس یا شہری اکاؤنٹ کی لاگت میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔

ایک سوال کے جواب میں الجدعان کا کہنا تھ اکہ تارکین وطن کے لیے کوئی نیا ٹیکس نہیں لایا جا رہا ہے۔ حکومت مستقل طور پر اپنے اقدامات کا جائزہ لیتی رہتی ہے۔ فی الحال تارکین وطن اور ان کے ساتھ آنے والوں کیی فیسوں کمی بیشی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ اس حوالے سے اگرکوئی کمی بیشی ہوتی ہے تو اس پیشگی اعلان کیا جائے گا۔ جیسا کہ ہم نے صنعتی شعبے کے حوالے سے کی جانے والی تبدیلیوں کے بارے میں شہریوں اور تارکین وطن کو قبل از وقت آگاہ کردیا تھا۔

خیال رہے کہ سعودی کابینہ نے گذشتہ 24 ستمبر کو فیصلہ کیا تھا کہ صنعتوں میں کام کرنے والے افراد کے لیے یکم اکتوبر سے 5 سال کی مدت تک حکومت تارکین وطن ملازمین کے صنعتی الائونسز برداسشت کرے گی۔

سعودی عرب نے تارکین وطن کی طرف سے اپنے ساتھ لائے جانے والے افراد پر"مالی معاوضہ" کا اطلاق شروع کیا۔ سنہ 2017ء کے دوسرے نصف حصے میں ایسے تارکین وطن کے لیے 100 ریال فی کس عاید مقرر کیے گئے۔

الجدعان نے تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب کے بجٹ کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ موجودہ سال میں بہت کچھ حاصل کیا ہے آنے والے سال میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں اور ان کی سروسزنیز نجی شعبے کو با اختیار بنانے اور شہریوں کی ترقی وبہبود کے لیے مزید بہتری کی توقع رکھتے ہیں۔

تیل کی آمدنی کے بارے میں الجدعان نے کہا ویژن 2030 کا ایک ہدف آمدنی کے ذرائع کو متنوع بنانا ہے اور ہم اس شعبے میں کام جاری رکھیں گے۔ تیل کے علاوہ دیگر ذرائع سے محصولات کے تناسب میں اضافہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل آئل کمپنی آرامکو کے حصص کی فروخت کے بعد تیل کی آمدن بدستور جاری ہے اور اس پر کوئی منفی اثر نہیں پڑا ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ پچھلے سال 2019ء کے آغاز میں منافع کا حجم 75 ارب ریال تھا جو کہ اس سے پچھلے سال کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں ہمیشہ پر امید ہوں اور ہم امید کرتے ہیں کہ تیل اور غیر تیل کی آمدنی توقع سے کہیں زیادہ ہوگی۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند