تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سعودی عرب میں غیرمعیاری سگریٹ فروش کمپنیوں کو پابندیوں کی وارننگ
صارفین کی جانب سے سوشل میڈیا پر غیرمعیاری سگریٹ فروخت کرنے کا دعویٰ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 5 رجب 1441هـ - 29 فروری 2020م
آخری اشاعت: جمعرات 14 ربیع الثانی 1441هـ - 12 دسمبر 2019م KSA 07:50 - GMT 04:50
سعودی عرب میں غیرمعیاری سگریٹ فروش کمپنیوں کو پابندیوں کی وارننگ
صارفین کی جانب سے سوشل میڈیا پر غیرمعیاری سگریٹ فروخت کرنے کا دعویٰ
العربیہ ڈاٹ نیٹ

سعودی عرب میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر غیرمعیاری سگریٹ فروش کیے جانے کے بعد محکمہ صحت نے وضاحت کی ہے کہ ملک میں کہیں بھی غیرمعیاری تمباکو فروشی نہیں ہو رہی ہے تاہم دوسری طرف سعودی عرب کی فوڈ اتھارٹی اور وزارت تجارت نے خبردار کیا ہے کہ غیرمعیاری سگریٹ فروخت کرنے والی کمپنیوں کے لائسنس ضبط کرکے ان کے کاروبار پرپابندی عاید کی جائے گی۔

قبل ازیں فوڈ اینڈ ڈرگز اتھارٹی کی جنرل باڈی کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں وضاحت کی گئی تھی کہ سگریٹ کی ڈبیوں کے پیکنگ کور کی تبدیلی کی گئی ہے مگرسگریٹ کے عالمی معیار کو برقرار رکھتے ہوئے عالمی ادارہ صحت کی طرف سے وضع کردہ فریم ورک پرعمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بعض صارفین نے فلیور کی تبدیلی پرسگریٹ کے معیار پرجس شبے کا اظہار کیا ہے وہ درست نہیں کیونکہ فلیوراور ذائقے کی تبدیلی سگریٹ کے ملاوٹ زدہ ہونے کی دلیل یا ثبوت نہیں ہے۔

کل بدھ 11 دسمبر کو ڈرگز اتھارٹی اور وزارت تجارت وسرمایہ کاری نے سگریٹ کے غیر معیاری ہونے کے خدشات کی مکمل چھان بین کے بعد جاری کردہ بیان میں صارفین کو یقین دلایا ہے کہ ملک میں کسی کمپنی کو غیر معیاری سگریٹ فروخت کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ وزارت تجارت اور ڈرگز اتھارٹی نے رواں ہفتے ملک بھر میں موجود سگریٹ فروش کمپنیوں اور ان کے ساتھ کام کرنے والے ایجنٹوں کو طلب کیا اور ان سے سگریٹ کے مختلف برانڈز اور ان کی کوالٹی پراٹھنے والے اعتراضات پر بات کی تھی۔ اس کے علاوہ حکام نے مختلف مقامات سے سگریٹ کے نمونے معیار کی جانچ کے لیے لیبارٹریوں میں بھیجے۔ کمپنیوں کی طرف سے بتایا گیا کہ حکومت کی طرف سے وضع کردہ طریقہ کار کےمطابق انہوں نے پیکنگ کور اور اس پر وارننگ نوٹس کے علاوہ کسی چیز میں کوئی رد وبدل نہیں کیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ بیرون ملک سے آنے والے سگریٹس کی ملک میں کسٹم حکام اور دیگر ماہرین پوری طرح چھان بین کرتے ہیں۔

وزارت صحت کی طرف سے تمام کمپنیوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ سگریٹ کی پیکنگ سے قبل ملک کی منظور شدی لیبارٹریز سے ان کی جان پڑتال کرائیں اور صارفین کی طرف سے اٹھنے والے اعتراضات اور شکایات کا ازالہ کریں۔ اس ضمن میں حکومت نے سات مختلف اقسام کے سگریٹس کا معیار چیک کرنے کے لیے بین الاقوامی تجربہ گاہ کو ارسال کیے گئے ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند