تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
عراق : مغربی صوبہ الانبار میں اجتماعی قبر سے 643 شہریوں کی باقیات برآمد
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعہ 28 جمادی الاول 1441هـ - 24 جنوری 2020م
آخری اشاعت: اتوار 17 ربیع الثانی 1441هـ - 15 دسمبر 2019م KSA 21:56 - GMT 18:56
عراق : مغربی صوبہ الانبار میں اجتماعی قبر سے 643 شہریوں کی باقیات برآمد
عراق کے شہر السماوہ میں ماضی میں دریافت ہونے والی ایک اجتماعی قبر سے ملنے والی باقیات اور کپڑے ۔ فائل تصویر
العربیہ ڈاٹ نیٹ

عراق کے مغربی صوبہ الانبار میں ایک اجتماعی قبر دریافت ہوئی ہے اور اس میں سے 643 شہریوں کی باقیات برآمد ہوئی ہیں۔

یہ اجتماعی قبر الانبار کے شہر فلوجہ سے پانچ کلومیٹر دور علاقے سے ملی ہے۔یہ خیال کیا جاتا ہے کہ صقلویہ سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو موت کی نیند سلا کر ایک بڑے گڑھے میں اتار دیا گیا تھا۔

عراق کے ایک سرکاری ذریعے نے بتایا ہے کہ یہ تمام مقتولین المحمدہ قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔وہ 2016ء سے لاپتا تھے اور تب سے ان کے بارے میں کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ کہاں گئے ہیں۔

اس سال عراقی سکیورٹی فورسز اور ایران نواز شیعہ ملیشیاؤں پر مشتمل الحشد الشعبی نے فلوجہ اور اس کے نواحی علاقوں کو داعش کے قبضے سے آزاد کرایا تھا مگر جس جگہ اجتماعی قبر دریافت ہوئی ہے، وہاں داعش کا کنٹرول نہیں تھا۔

الانبار کے صوبائی دارالحکومت الرمادی میں محکمہ فورینزک میڈیسن کے ذرائع نے بتایا ہے کہ اجتماعی قبر سے انسانی کھوپڑیاں ، ہڈیاں ، سادہ کپڑے ، بچّوں کی چیزیں اور ہتھکڑیاں ملی ہیں، جس سے یہ پتا چلتا ہے کہ اس جگہ ان لوگوں کا بے دردی سے قتلِ عام کیا گیا تھا۔

یہ اجتماعی قبر فلوجہ اور بغداد کے درمیان واقع شاہراہ کے نزدیک سے دریافت ہوئی ہے۔یہ جگہ فلوجہ کے جنوب مغرب کی جانب جانے والی شاہراہ کے زیادہ نزدیک ہے۔

عراقی حکام نے تصدیق کی ہے کہ یہ علاقہ الحشدالشعبی کے کنٹرول میں تھا اور داعش کے جنگجو یہاں نہیں پہنچے تھے۔اس سے اس شُبے کو تقویت ملتی ہے کہ الحشد الشعبی کے جنگجوؤں نے نسلی اور فرقہ وار بنیاد پر المحمدہ قبیلے کے لوگوں کی نسلی تطہیر کی تھی۔

عراق میں مسلم علماء کی تنظیم کے شعبہ انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ اس طرح کے جنگی جرائم اور انسانیت مخالف جرائم میں عراقی حزب اللہ بریگیڈز، البدر ، عصائب اہل الحق اور ایسے ہی دوسرے گروپ ملوّث رہے تھے۔ان مسلح گروپوں نے 2014ء سے 2017ء  تک عراق کے مغربی اور شمال مغربی صوبوں میں لوگوں کے خلاف اسی طرح کے انسانیت سوزسفاکانہ جرائم کا ارتکاب کیا تھا۔

واضح رہے کہ عراق کے وسطی صوبہ بابل کے شمالی علاقے میں بھی چند ماہ قبل اسی طرح کی ایک اجتماعی قبر دریافت ہوئی تھی اور وہاں سے دو سو سے زیادہ مقتولین کی باقیات برآمد کی گئی تھیں لیکن عراقی حکومت نے آج تک ان کی ہلاکت سے متعلق تفصیل جاری نہیں کی ہے کہ انھیں کیسے مارا گیا، کس گروپ نے ہلاک کیا اور اس جرم کا کیوں ارتکاب کیا تھا؟

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند