تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
لیبیا میں ترکی کی مداخلت ناقابل قبول، قومی فوج کی حمایت کرتےہیں: السیسی
ملکی وسائل کو جنگوں پرنہیں بلکہ تعمیرو ترقی اور عوام کی خوش حالی پرصرف کریں گے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 3 رجب 1441هـ - 27 فروری 2020م
آخری اشاعت: منگل 19 ربیع الثانی 1441هـ - 17 دسمبر 2019م KSA 07:35 - GMT 04:35
لیبیا میں ترکی کی مداخلت ناقابل قبول، قومی فوج کی حمایت کرتےہیں: السیسی
ملکی وسائل کو جنگوں پرنہیں بلکہ تعمیرو ترقی اور عوام کی خوش حالی پرصرف کریں گے
مصر کے صدر عبد الفتاح السيسي
قاہرہ ۔ اشرف عبدالحمید

مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے باور کرایا ہے کہ ان کا ملک لیبیا کے موجودہ بحران میں لیبی فوج کی حمایت میں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لیبیا میں مصر مداخلت نہیں کرتا اور کسی دوسرے ملک کی مداخلت کو بھی قبول نہیں کرے گا۔ لیبیا میں ترکی کی مداخلت عرب ملک کے استحکام کومزید نقصان پہنچانےکا باعث بنے گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شرم الشیخ میں یوتھ کانفرنس سے خطاب میں صدر السیسی نے کہا کہ لیبیا میں بعض لوگ مداخلت کررہے ہیں اور یہ مداخلت لیبیا کے بحران کے حل اور سیاسی مفاہمت کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ مصر دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کو مستردکرتا ہے اور لیبیا میں کسی تفرقہ اور تقسیم کے بغیر تمام فریقین کے درمیان بامقصد اور دیر پا سیاسی حل کا خواہاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترکی اور لیبیا کی قومی وفاق حکومت کے سربراہ فائز السراج کےدرمیان طے پائے دفاعی سمجھوتے کو مسترد کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مصری وزارت خارجہ نے ترکی اور فائز السراج کےدرمیان طے پائے سمجھوتے کو واضح انداز میں مسترد کردیا ہے۔

صدرالسیسی کا کہنا تھا کہ ان کا ملک تمام عرب ممالک کے ساتھ برادرانہ اور دوستانہ تعلقات کے فروغ کا خواہاں ہے۔ ہمارے دل تمام عرب بھائیوں کے لیے کھلے ہیں۔ ہم لیبیا اور سوڈان کی سلامتی کو گزند پہنچانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

ایتھوپیا کے وزیراعظم کی طرف سے حال ہی میں جاری کردہ ایک بیان کےجواب میں صدرا السیسی نے کہا کہ ہم اپنے ملک اور قوم کے وسائل کو جنگوں پربرباد کرنے پریقین نہیں رکھتے بلکہ قومی وسائل کو ملکی تعمیرو ترقی پر صرف کریں گے۔ خیال رہےکہ حال ہی میں ایتھوپیا کے وزیراعظم نے کہا تھا کہ اگر مصر نے ہم پرحملہ کرنے کی کوشش کی تو ہم ایک ملین لوگ جمع کرکے مصر کا مقابلہ کریں گے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند