تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایران کی فضاء غیر محفوظ، تہران کی یقین دہانی کے باوجود کئی ممالک کا بائیکاٹ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 22 جمادی الثانی 1441هـ - 17 فروری 2020م
آخری اشاعت: ہفتہ 15 جمادی الاول 1441هـ - 11 جنوری 2020م KSA 07:29 - GMT 04:29
ایران کی فضاء غیر محفوظ، تہران کی یقین دہانی کے باوجود کئی ممالک کا بائیکاٹ
العربیہ ڈاٹ نیٹ ۔ ایجنسیاں

یوکرین کا مسافر بردار طیارہ بدھ کے روز صبح سویرے ایران میں گر کر تباہ ہو گیا جس میں عملے کے ارکان سمیت سوار تمام 176 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اس واقعے کے بعد کئی ممالک نے ایران کی فضائی حدود کو غیرمحفوظ قرار دیتے ہوئے ایران کا فضائی بائیکاٹ کر دیا ہے۔

دوسری طرف ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ ایران کی فضائی حدود مکمل طور پر محفوظ ہیں۔ ایران کی فضا کے غیر محفوظ ہونے کا پروپیگنڈہ دشمنوں کی سازش ہوسکتی ہے۔ تاہم ایران کی طرف سےتسلی دینے اور یقین دہانی کے باجود سویڈن نے جمعہ کی شام اسٹاک ہوم اور تہران کے درمیان اپنی پروازیں روکنے کا اعلان کیا ہے۔

سویڈش ایئر ٹرانسپورٹ ایجنسی نے کہا ہے کہ وہ رواں ہفتے تہران کے قریب طیارے کے حادثے اور ایرانی شہری ہوا بازی کی جانب سے فضائی حدود کی حفاظت سے متعلق خدشات کے پیش نظرایرانی ایئرویز کے طیارے کو اپنی فضائی حدود میں اڑنے کی اجازت دینے پر عارضی طور پر پابندی عاید کر رہا ہے۔

سویڈش ٹرانسپورٹ ایجنسی کے سربراہ گینز لیون برگ نے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ہمیں احساس ہے کہ اس سے مسافروں کے لیے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں، لیکن مسافروں کی حفاظت زیادہ اہم ہے۔ لہذا ہم نے تمام پروازوں کو عارضی طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسی حوالے سے سویڈن کی وزیر خارجہ این لنڈے نے بتایا ہے کہ تہران میں حادثے کا شکار ہونے والے طیارے میں سویڈن کے سترہ مسافر بھی شامل ہیں۔ ان میں سات سویڈن کے باقاعدہ شہری ہیں جب کہ دیگر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ قانونی طورپر سویڈن میں مقیم ہیں۔

لوفتھانزا نے پروازیں منسوخ کردیں، برطانیہ کا انتباہ

دریں اثنا جرمن فضائی کمپنی لوفتھانزا ایئرلائنز نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی دارالحکومت کی فضائی حدود میں سیکیورٹی کی صورتحال کی وجہ سے 20 جنوری تک تہران کے لیے دو طرفہ فضائی آمد ورفت روک دی ہے۔

کمپنی نے بتایا کہ یہ فیصلہ "احتیاطی تدابیر" کے طور پر اختیار کیا گیا ہے۔ دوطرفہ فضائی سروس کی بحالی کے لیے حتمی تاریخ بعد میں دی جائے گی البتہ تہران کے لیے فضائی سروس 20 جنوری تک معطل رہے گی۔

دریں اثناء برطانیہ نے جمعہ کے روز اپنے شہریوں کو کہا ہے کہ وہ ایران کے سفر سے گریز کریں۔برطانوی سکریٹری خارجہ ڈومینک ریپ نے کہا ہے کہ یہ معلومات دی گئی ہے کہ یوکرین کی بین الاقوامی ایئرلائن کی پرواز نمبر 752 ایرانی میزائل کا نشانہ بن کر حادثے کا شکار ہوئی ہے۔ اس واقعے نے ایران کی فضائی حدود کو مشکوک بنا دیا ہے۔

برطانوی دفتر خارجہ کی طرف سے بھی برطانوی شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایران کی فضائی حدود کے پرامن ہونے تک ایران کے سفر سے گریز کریں۔

دوسری طرف ایرانی ہوا بازی اتھارٹی نے تصدیق کی ہے کہ جمعہ کے روز متعدد بین الاقوامی ہوائی کمپنیوں نے تہران کے لیے پروازیں معطل کی ہیں تاہم ایران اپنی فضائی حدود کو ہرصورت میں محفوظ بنائے گا۔

ایرانی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن برائے نیویگیشن اینڈ انٹرنیشنل افیئر کے سربراہ کے معاون مرتضیٰ دھقان نے کہا کہ ایرانی فضائی حدود ہرقسم کی فضائی آمد ورفت کے لیے مکمل طورپر محفوظ ہیں"۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایرانی فضائی حدود کو مکمل سیکیورٹی حاصل ہے۔ انہوں نے تہران کے لیے پروازیں معطل کرنے والی فضائی کمپنیوں اورملکوں سے اپیل کی کہ وہ پروازیں دوبارہ شروع کریں۔

خیال رہے کہ تین جنوری کو علی الصباح یوکرین کا ایک مسافر طیارہ تہران میں اڑان بھرنے کے چند منٹ کےبعد گر کرتباہ ہوگیا تھا۔ اس حادثے کی تحقیقات کے دوران یہ خدشہ سامنے آیا ہے کہ یوکرین کا مسافر ہوائی جہاز ایران سے داغے گئے ایک میزائل کا نشانہ بنا ہے۔ ان خبروں کے بعد کئی عالمی فضائی کمپنیوں نے مسافروں کی حفاظت کے پیش نظر تہران کے لیے فضائی سروس معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند