تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
بشار حکومت کی جانب سے مقتول ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کا خصوصی اعزاز و اکرام
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 5 رجب 1441هـ - 29 فروری 2020م
آخری اشاعت: منگل 18 جمادی الاول 1441هـ - 14 جنوری 2020م KSA 10:41 - GMT 07:41
بشار حکومت کی جانب سے مقتول ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کا خصوصی اعزاز و اکرام
العربیہ ڈاٹ نیٹ ۔ عہد الفاضل

شام کے صدر بشار الاسد نے ایرانی پاسداران انقلاب کے مقتول کمانڈر قاسم سلیمانی کو ملک کے قومی اعزاز "وسام بطل الجمهورية العربية السورية" سے نوازا ہے۔

شامی حکومت کے وزیر دفاع علی ایوب نے بشار الاسد کی جانب سے سلیمانی کو پیش کیا گیا ایوارڈ ایرانی وزیر دفاع امیر حاتمی کے حوالے کیا۔

بشار حکومت میں وزیراعظم کے منصب پر فائز عماد خمیس شامی وزیر دفاع اور وزیر خارجہ کے ہمراہ اتوار کی شام تہران پہنچے تھے۔ انہوں نے ایرانی ذمے داران کے ساتھ ملاقاتیں کیں جن میں نائب ایرانی صدر اسحاق جہانگیری سرفہرست ہے۔

پیر کے روز ہونے والی ملاقاتوں میں عماد خمیس نے 3 جنوری کو بغداد میں امریکی حملے میں مارے جانے والے قاسم سلیمانی کی موت پر تعزیت پیش کی۔

شامی حکومت کی ترجمان خبر رساں ایجنسی SANA کے مطابق بشار الاسد کے وفد کی ایرانی عہدے داران کے ساتھ ملاقات میں دو طرفہ خصوصی تعاون کو مضبوط بنانے اور دونوں ممالک پر عائد اقتصادی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے بات چیت ہوئی۔

بشار الاسد کے وفد نے ایرانی پارلیمںٹ کے اسپیکر علی لاریجانی سے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر سلیمانی کی موت کی تعزیت پیش کرتے ہوئے عماد خمیس نے باور کرایا کہ شامی حکومت عراق میں "عين الاسد" فوجی اڈے پر ایران کے میزائل حملے کی حمایت کرتی ہے۔

بشار کے وفد نے ایرانی قومی سلامتی کی سپریم کونسل کے سکریٹری جنرل علی شمخانی سے بھی ملاقات کی۔ اس دوران شامی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ قاسم سلیمانی "شام کے شہید" بھی ہیں۔

یاد رہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے یوکرین کے مسافر طیارے کو مار گرانے کی ذمے داری قبول کرنے کے اعلان کے بعد سے تہران میں بڑے پیمانے پر عوامی مظاہروں اور احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس دوران مظاہرین نے اپنے نعروں میں ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای کو قاتل قرار دیا اور ایرانی سابق کمانڈر قاسم سلیمانی کی تصاویر جلائیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند