تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
بدلتے سعودی عرب میں ریستوران اور کیفے تبدیلی کے رنگ بکھیرنے لگے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 2 رجب 1441هـ - 26 فروری 2020م
آخری اشاعت: جمعہ 21 جمادی الاول 1441هـ - 17 جنوری 2020م KSA 07:40 - GMT 04:40
بدلتے سعودی عرب میں ریستوران اور کیفے تبدیلی کے رنگ بکھیرنے لگے
دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر قیادت ملک سماجی اور اقتصادی اصلاحات کے ایک نئے دور میں داخل ہوگیا ہے۔ اصلاحات کے بعد سعودی عرب میں ماضی کی بندشیں ٹوٹ رہی ہیں اور ہرعام وخاص کو ماضی کی نسبت زیادہ آزادیاں حاصل ہیں۔

امریکی اخبار'نیویارک ٹائمز' نے سعودی عرب میں ہونے والی سماجی تبدیلیوں کا ایک رخ پیش کرتے ہوئے بتایا ہے کہ مملکت کے کیفے اور ریستوران اصلاحات اور تبدیلی کی عکاسی کرنے لگے ہیں۔

امریکی مصفنہ اور کالم نگار'ویون یی' نے سعودی عرب کے دارالحکومت الریاض میں تبدیلیوں پر قلم اٹھایا اور لکھا ہے کہ آج کا الریاض ماضی سے بہت مختلف اور بدلا ہوا ہے۔ آج ہم آسانی کے ساتھ 'گوگل میپ' ایپلی کیشن کی مدد سے ہم کیفے تلاش کرسکتے ہیں۔ گوگلے کے ذریعے ہم دیکھ سکتے ہیں کہ سعودی عرب میں کیا ہو رہا ہے۔ الریاض میں اب خواتین آزادی کے ساتھ سڑکوں پر کاریں چلاتی ہیں۔ سینما گھر کھلے ہیں۔ 'آشر' اور 'ایکن' جیسے شہرہ آفاق گلوکار ایسی پارٹیوں میں نغمے گاتے ہیں جن کی ٹکٹیں پہلے ہی فروخت ہوچکی ہیں۔

خواتین کےلیے مختص کیفے

مصنفہ یی نے الریاض 'نبت فنجان 'کیفے کے ایک گاہک کے حوالے سے لکھا کہ اس نے اس جگہ کا دورہ کیا اور جو دیکھا اس پر وہ حیرت زدہ رہ گیا! اس کا کہنا ہے کہ گمان تھا کہ یہ ریستوران مستقل طور پر بند ہوگیا ہوگا۔ایک دوسرے صارف نے بتایا کہ اس کا غصہ ' آئس ماچا' چائے یا 'فلیٹ وائٹ' کافی پینے والوں کے خلاف نہیں تھا۔یہاں گاہکوں کو بغیر دود کافی، اور چاک لیٹ کیک بہت مناسب قیمت پر مل جاتئے ہیں۔

اصل بات یہ ہے کہ 'بنت فنجان' صرف خواتین کے لیے قائم کردہ ایک کیفے تھا جس میں مردوں کا داخلہ ممنوع تھا، مگر سنہ 2018ء میں ہونے والی اصلاحات کے بعد یہ کیفے بھی بدل چکا ہے۔ یہاں اب نہ صرف مخلوط عملہ موجود ہے بلکہ لوگ فیملی کی شکل میں یہاں آتے اور مخلوط شکل میں یہاں بیٹھ کر نائو نوش کرتے ہیں۔ یہی سعودی عرب کی اہم معاشرتی اصلاح ہے جس نے مردو زن میں تقسیم کو ختم کردیا ہے۔

کھلا پن

'نبت فنجان' کیفے سعودی عرب کے دارالحکومت الریاض کا واحد ایسا ریستوران نہیں جس میں گاہکوں کو مخلوط انداز میں بیٹھنے کی بیٹھنے کی اجازت دی جاتی ہے بلکہ اس طرح کے کئی دوسرے کیفے اور ریستوران ماضی کی پابندیاں ختم کرچکے ہیں۔ 30 سالہ شادن الخلیفہ کہتی ہیں کہ وہ الریاض کے 'درافت' کیفے میں پہلے بھی آچکی ہیں مگر اب یہ بہت بدل چکا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ مخلوط کیفوں کی تعداد میں اضافے کی وجہ لوگوں کے ذہنوں کا روشن خیال ہونا بھی ہوسکتا ہے۔ لوگ اب پہلے کی نسبت زیادہ کھلے پن کا مظاہرہ کرنے لگے ہیں اور انہوں کے حکومتی اصلاحات کو کھلے دل سے قبول کرلیا ہے۔

نبت کیفے کی مثال دیتے ہوئےلوگوں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے بڑے شہروں میں اب سوچ تیزی کے ساتھ بدل رہی ہے۔ تاہم دیہی علاقوں اور چھوٹے شہروں میں تبدیلی کے اثرات دھیرے دھیرے پہنچ رہےہیں۔

سنیما ، مخلوط تقریبات اور کاروباری سرگرمیاں

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں سینما گھر ،مخلوط تقریبات اور یہاں تک کہ ریسلنگ کے میچز تک کا رواج آگیا ہے۔ نوجوان کاروباری افراد ایسی جگہوں پر کاروبارشروع کرتے ہیں جہاں پرمردو زن دونوں کوآزادی کے ساتھ آمد ورفت کی اجازت ہے۔ فلم ساز، فن کار اور دیگر شبعہ ہائے زندگی کے لوگ آزادانہ سعودی عرب میں آتے ہیں۔

سعودی عرب میں ریستوران اور کیفے نیٹ ورک مملکت کے نوجوانوں کی توجہ کا خاص مرکز ہے۔ یہاں پرآنے والوں کی سب سے زیادہ تعداد نوجوانوں پرمشتمل ہوتی ہے۔ مملکت میں 30 سال سے کم عمر نوجوانوں کی تعداد کل آبادی کا ایک تہائی ہے۔ یہ سب موسیقی اور فلموں کو پسند کرتے۔ ان کے لیے حکومت نے اصلاحات کے ذریعے آگے بڑھنے کی راہیں کھول دی ہیں۔

یہ سعودی عرب میں نوجوانوں کی نمائندگی کرتا ہے جو کیفے زائرین کی سب سے بڑی فیصد ہے ، جو اس ملک کی آبادی کی کثافت کی عکاسی کرتا ہے۔ سوشل میڈیا بالخصوص انسٹا گرام پر سعودی عرب کے نوجوانوں کی بڑی تعداد دیکھی جاسکتی ہے جن کی شامیں ان با رونق کیفوں میں گذرتی ہیں اور وہ اپنے دوستوں کے ساتھ لی گئی تصاویر انسٹا گرام پرشیئر کرتے ہیں۔

پُرکشش کیفے

امریکی مصنفہ لکھتی ہیں کہ ایک دور تھا دارالحکومت الریاض میں ہرطرف برگرکیفے تھے جو پرکشش برگر فراہم کرتے۔ اس کے بعد فوڈ ریڑھیوں کا دور آیا۔ الریاض میں ایک 'اوبر' ڈرائیور عبد الرحمن نے کہا ہمارے پاس کیفے جانے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب بھی بہت سے کیفے مردو خواتین کو الگ الگ رکھتے ہیں لیکن بہت سے دوسرے ایسے ہیں جہاں اب گاہک مخلوط ماحول سے لطف اٹھاتے ہیں۔ ان میں جاپانی برآمد شدہ کھانے اور دیگر ملکوں کے کھانے موجود ہوتے ہیں۔

جینز اور جوتے

امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق الائچی سے تیار کردہ روایتی عرب قہوے کا رحجان کم ہو رہا ہے۔ سعودی عرب کی تاریخ میں اس ایک چھوٹے کپ جسے 'دلہ' کہا جاتا تھا کجھوروں کے ساتھ پیش کرتےہیں۔ یہ قہوہ سعودی عرب کی ثقافت کی پہچان سمجھا جاتا تھا۔ ان کی جگہ اب فاسٹ فوڈ کے کیفوں نے لے لینا شروع کردی ہے۔ "درافت" کیفے کو اس کی مثال کے طور پرپیش کیا جاسکتا ہے۔ جدید طرز کے لیمپوں سے لکڑی کی میزوں پر'الکینوا'جیسے کھانے پیش کیے جاتے ہیں۔ بحیرہ احمر کے کنارے واقع شہر جدہ میں "میڈ کیفے" میں مناسب قیمت پر نامیاتی دانے بھون کر پیش کیے جاتے ہیں۔

جمعہ کی رات 'میڈ کیفے "کے آؤٹ ڈور آنگن میں نوجوان مردوں اور خواتین کا ہجوم ہوتا ہے۔ بہت سی خواتین کو جینز اور ایتھلیٹک جوتوں کے ساتھ کھلی گائون یا لمبی جیکٹوں میں دیکھا جاسکتا ہے۔

ریاض میں'کنکہ کیفے' کو دوبارہ کھولا گیا ہے۔ کئی سال تک اس کیفے کو صرف خواتین کے لیے ہونے پر فخر حاصل رہا مگر گذشتہ برس اسے'سب کے لیے فخریہ پیشکش' کے ساتھ کھولا گیا۔ اب اس کیفے میں مردو خواتین کی آمدو رفت کا ایک ہی راستہ ہے۔ سب ایک ہی قطار میں اپنی پسند کی چیزیں لے سکتے ہیں۔یہاں اب مردو زن میں کوئی تفریق نہیں کی جاتی۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند