تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایران میں یوکرین مسافر طیارے کے حادثے سے متعلق نئی تفصیلات
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 3 رجب 1441هـ - 27 فروری 2020م
آخری اشاعت: منگل 25 جمادی الاول 1441هـ - 21 جنوری 2020م KSA 13:01 - GMT 10:01
ایران میں یوکرین مسافر طیارے کے حادثے سے متعلق نئی تفصیلات
دبئی – العربیہ ڈاٹ نیٹ

اگرچہ ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے اصرار کیا جاتا رہا کہ اُس کے ایک رکن نے مختصر فاصلے تک مار کرنے والا ایک میزائل غلطی سے یوکرین کے مسافر طیارے کی جانب داغ دیا۔ تاہم ایرانی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے پیر کے روز اپنی نئی رپورٹ میں اعلان کیا ہے کہ ایران کے دو"TOR-M1" میزائلوں نے یوکرین کے مسافر طیارے کو نشانہ بنایا۔ رواں ماہ 8 جنوری کو علی الصبح پیش آنے والے حادثے میں 176 افراد ہلاک ہو گئے۔ ہلاک شدگان میں زیادہ تر کا تعلق ایران اور کینیڈا سے ہے۔

یاد رہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب نے کئی روز تک مسافر طیارے کے حادثے کی ذمے داری قبول کرنے سے انکار کیا .. بعد ازاں گذشتہ ہفتے پاسداران نے اعلان کیا کہ ایک میزائل طیارے کی جانب داغا گیا تاہم وہ طیارے کے نزدیک پھٹا۔ پاسداران کا کہنا تھا کہ طیارے نے اپنی واپسی کے رُوٹ سے انحراف کیا تھا تاہم بعد ازاں یوکرین نے نقشوں کے ذریعے اس امر کی تردید کر دی تھی۔

مزید برآں پاسداران انقلاب کی فضائیہ کے سربراہ امیر علی حاجی زادہ کا کہنا ہے کہ پاسداران نے یہ گمان کیا کہ یوکرین کا طیارہ کوئی کروز میزائل ہے لہذا اس روز علی الصبح مسافر طیارے کی سمت ایک مختصر فاصلے تک مار کرنے والا میزائل داغ دیا گیا۔

واضح رہے کہ 13 جنوری کو غیر ملکی میڈیا اور سوشل میڈیا میں وائرل ہونے والی ایک وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ "پاسداران انقلاب" نے طیارے پر دو میزائل داغے۔

وڈیو کے مطابق یوکرین کا طیارہ نشانہ بننے کے باجود فوری طور پر نہیں گرا بلکہ وہ ہوائی اڈے کے گرد گھومتا رہا جب کہ اس میں آگ لگی ہوئی تھی۔ چند سیکنڈوں کے بعد طیارے میں دھماکا ہوا اور وہ خلج آباد گاؤں کے نزدیک گر گیا۔

یوکرین اور کینیڈا دونوں ممالک نے ایران سے مطالبہ کیا تھا کہ تحقیق اور مزید تفصیلات جاننے کے لیے طیارے کے دونوں بلیک بکسوں کو یوکرین یا فرانس بھیجا جائے۔ تاہم بلیک بکسوں کو معائنے کے لیے بیرون ملک بھیجے جانے کے امکان کے حوالے سے گذشتہ دنوں کے دوران ایرانی ذمے داران کے متضاد بیانات سامنے آئے۔

ایران نے منگل کے روز اپنے تازہ بیان میں باور کرایا ہے کہ وہ بلیک بکسوں کو بیرون ملک نہیں بھیجے گا بلکہ تہران میں ہی ان کے تجزیے پر انحصار کرے گا۔ البتہ ایرانی سول ایوی ایشن نے واضح کیا ہے کہ اس نے بلیک بکسوں کا ڈیٹا ڈی کوڈ کرنے کے لیے امریکا اور فرانس سے مطلوبہ ساز و سامان طلب کیا ہے تاہم اس مطالبے کا کوئی مثبت جواب موصول نہیں ہوا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند