تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
جوہری معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھایا گیا تو ایران معاہدہ توڑ دے گا: جواد ظریف
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 25 جمادی الثانی 1441هـ - 20 فروری 2020م
آخری اشاعت: منگل 25 جمادی الاول 1441هـ - 21 جنوری 2020م KSA 07:09 - GMT 04:09
جوہری معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھایا گیا تو ایران معاہدہ توڑ دے گا: جواد ظریف
ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف
دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ اگرایران کے متنازع جوہری معاہدے کا معاملہ اقوام متحدہ میں لے جایا گیا تو تہران عالمی طاقتوں کے ساتھ طے پایا معاہدہ توڑ دے گا۔

ایران کی سرکاری ایرانی ایجنسی نے جواد ظریف کے حوالے سے بتایا کہ اگر یورپی ممالک اپنے غیر مناسب سلوک پر بدستور قائم رہے یا ایران کو سلامتی کونسل میں گھسیٹنے کی کوشش کی تو ہم جوہری سمجھوتے سے دست بردار ہوجائیں گے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدے میں شامل فرانس ، برطانیہ اور جرمنی نے دوسرے یورپی ممالک ساتھ ملک کر ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق میکانزم کو فعال کرنے کا اعلان کیا تھا جس پر ایران نے سخت تنقید کی تھی۔ یورپی ممالک کا کہنا ہے کہ ایران جوہری معاہدے کی سنگین خلاف ورزیاں کررہا ہے۔

ان یورپی ممالک نے ایک مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ ’’ ایران کے اقدامات کے پیش نظر ہمارے پاس کوئی چارہ کار نہیں رہ گیا تھا۔آج ہم اپنی اس تشویش کا اظہار کررہے ہیں کہ ایران جوہری سمجھوتے کے تحت اپنی ذمے داریوں کو پورا نہیں کررہا ہے۔اس لیے اس کا معاملہ جوہری سمجھوتے ( جامع لائحہ عمل ،جے سی پی او اے) کے پیراگراف 36 کے تحت تنازع کے حل کے میکانزم کے مطابق مشترکہ کمیشن کو بھیجا جارہا ہے۔

اس میکانزم کے تحت یورپی یونین اب جوہری سمجھوتے کے دوسرے فریق ممالک روس اور چین کے علاوہ ایران کو مطلع کرے گی۔اس کے بعد اختلافات کو سلجھانے کے لیے پندرہ دن کا وقت ہوگا۔ تاہم اس ڈیڈ لائن میں اتفاق رائے سے توسیع کی جاسکتی ہے۔

اس تمام عمل کے بعد اگر ایران کے ساتھ جوہری سمجھوتے کے تحت تنازع طے نہیں پاتا تو اس کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت دوبارہ اقتصادی پابندیاں عاید کردی جائیں گی۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 8 مئی 2018ء کو ایران اور چھے عالمی طاقتوں کے درمیان طے شدہ جوہری سمجھوتے سے یک طرفہ طور پر دستبردار ہونے کا اعلان کردیا تھا اور اسی سال نومبر میں ایران کے خلاف دوبارہ سخت اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں۔

انھوں نے ایران پر دہشت گردوں اور اپنے آلہ کار غیرملکی گروپوں کی حمایت کا الزام عاید کیا تھا۔ان پابندیوں میں ایران کی تیل کی برآمدات ، جہاز رانی اور بنک کاری کے شعبوں کو ہدف بنایا گیا تھا۔ان کے نتیجے میں ایران کی معیشت زبوں حال ہوچکی ہے اور ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

کل سوموار کے روز ایران نے یورپی ممالک کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یورپ ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ بچانے میں ناکام رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران جوہری سمجھوتے کی شرائط کی مکمل پابندی کررہا ہے مگر یورپی ممالک اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند