تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
لبنان میں نئی حکومت کی تشکیل کے باوجود احتجاج کا سلسلہ جاری
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 5 رجب 1441هـ - 29 فروری 2020م
آخری اشاعت: بدھ 26 جمادی الاول 1441هـ - 22 جنوری 2020م KSA 06:55 - GMT 03:55
لبنان میں نئی حکومت کی تشکیل کے باوجود احتجاج کا سلسلہ جاری
دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

لبنان میں ایوان صدر کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ نو منتخب وزیراعظم حسان دیاب کی قیادت میں نئی کابینہ تشکیل دے دی گئی ہے جب کہ دوسری طرف ملک میں مختلف شہروں میں احتجاج کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق لبنانی صدر میشل عون نے ایک صدارتی فرمان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نو منتخب وزیراعظم حسان دیاب کی کابینہ کی منظوری دے دی گئی ہے۔ نئی حکومت لبنان میں سبکدوش وزیراعظم سعد حریری کی حکومت کے خلاف تین ماہ قبل شروع ہونے والی احتجاجی تحریک کے نتیجے میں قائم کی گئی ہے۔

حسان دیاب کی کابینہ میں 20 وزراء شامل کیے ہیں۔ ان میں سے بیشتر کو ماضی میں کوئی حکومتی ذمہ داری نہیں سونپی گئی۔ لبنانی ذرائع ابلاغ کے مطابق نئی کابینہ میں شامل ہونے والے وزراء میں سے بیشتر کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ انہیں آزاد ارکان میں سے چنا گیا ہے۔

لبنان کی نئی کابینہ میں حسان دیاب کو وزیراعظم مقرر کیا گیا ہے۔ زینہ عکر کو نائب وزیراعظم اور وزیر دفاع، میجر جنرل محمد فہمی کو وزارت داخلہ وبلدیات، غازی وزنی کو خزانہ، ناصیف حتی کو خارجہ امور، طلال حواط کو ٹیلی کمیونیکیشن، ماری کلوڈ نجم کو وزارت قانون، مشیل نجار کو ٹرانسپورٹ و پبلک افیئر، لمیا یمین کو وزارت لیبر، ریمون غجر کو توانائی اور آبی وسائل، رمزی مشرفیہ کو سیاحت اور سماجی بہبود، فارتی اوھانیان کو کھیل اور امور نوجوانان، طارق المجذوب کو وزارت تعلیم، راوول نعمہ کو معیشت وتجارت، دمیانوس قطار کو ماحولیات اور انتظامی ترقی، حمد حسن کو صحت، عباس مرتضیٰ کو زراعت، عماد حب اللہ کو صنعت، غادم شریم کو سمندر شہریوں کے امور کی وزارت اور منال عبدالصمد کو وزارت اطلاعات کا قلم دان سونپا گیا ہے۔

نئی کابینہ تشکیل دینے اور سابق ناپسندیدہ وزراء کو عہدوں سے ہٹانے کے باوجود منگل کے روز لبنان میں احتجاجی مظاہرے جاری رہے۔ گذشتہ روز مظاہرین کی بڑی تعداد نے پارلیمنٹ کو ملانے والی مرکزی شاہراہ بلاک کردی اور پولیس پر سنگ باری کی۔ مظاہرین نے پارلیمنٹ کے داخلے راستے پر لگا جنریٹر توڑ ڈالا۔

العربیہ اور الحدث چینلوں کی رپورٹ کے مطابق بعض مظاہرین نے پولیس پر پٹرول بم بھی پھینکے جب کی پولیس نے جوابی کارروائی میں مظاہرین پرصوتی بموں، آنسوگیس کی شیلنگ اور واٹر کینن گنز کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں متعدد مظاہرین زخمی ہو گئے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند