تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ڈیووس: عراقی صدر کا ڈونلڈ ٹرمپ سے غیرملکی فوجیوں کے انخلا پر تبادلہ خیال
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 2 رجب 1441هـ - 26 فروری 2020م
آخری اشاعت: بدھ 26 جمادی الاول 1441هـ - 22 جنوری 2020م KSA 19:29 - GMT 16:29
ڈیووس: عراقی صدر کا ڈونلڈ ٹرمپ سے غیرملکی فوجیوں کے انخلا پر تبادلہ خیال
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ڈیووس میں عراقی ہم منصب برہم صالح سے مصافحہ کررہے ہیں۔
ڈیووس ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ ، ایجنسیاں

عراقی صدر برہم صالح نے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی ہے اور ان سے اپنے ملک سے غیر ملکی فوجیوں کے انخلا سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

جنوری کے اوائل میں عراق نے امریکا سے اپنے فوجیوں کو نکالنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن واشنگٹن نے اس کے اس مطالبے کو مسترد کردیا تھا۔

عراقی ایوان صدر کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ ایک بیان کے مطابق ’’ دونوں صدور کی ملاقات میں غیرملکی فوجیوں کی تعداد میں کمی اور عراقی عوام کے ملک کی خود مختاری کے تحفظ سے متعلق مطالبات کے احترام کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔‘‘

وائٹ ہاؤس نے بھی اس ملاقات کے بارے میں ایک بیان جاری کیا ہے اور اس میں کہا ہے کہ ’’صدر ٹرمپ اور ان کے عراقی ہم منصب نے ملک میں امریکی فوج کے کردار کو جاری رکھنے سے اتفاق کیا ہے۔‘‘

وائٹ ہاؤس نے مزید کہا ہے کہ ’’ دونوں لیڈروں نے امریکا اور عراق کے درمیان اقتصادی اور سکیورٹی کے شعبے میں شراکت داری اور داعش کے خلاف جنگ میں تعاون جاری رکھنے سے اتفاق کیا ہے۔صدر ٹرمپ نے امریکا کی جانب سے ایک خود مختار ، مستحکم اور خوش حال عراق کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔‘‘

واضح رہے کہ عراق کی پارلیمان نے پانچ جنوری کو ایک غیرپابند قرارداد کی منظوری دی تھی۔اس میں حکومت سے یہ کہا گیا تھا کہ وہ عراق میں غیرملکی فوجیوں کی موجودگی کا خاتمہ کرے۔اس نے یہ قرارداد تین جنوری کو دارالحکومت بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے نزدیک امریکا کے ایک ڈرون میں ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی اور عراقی ملیشیا الحشد الشعبی کے ڈپٹی کمانڈر ابو مہدی المہندس کی ہلاکت کے ردعمل میں منظور کی تھی۔

ایران نے قاسم سلیمانی کی موت کا انتقام لینے کے لیے عراق میں امریکی فوج کے دو اڈوں پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا تھا۔اس حملے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا تھا۔

عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے پارلیمان میں قرارداد کی منظوری کے بعد امریکا سے باضابطہ طور پر کہا تھا کہ وہ اپنے فوجیوں کو واپس بلائے لیکن ٹرمپ انتظامیہ نے ان کی یہ اپیل مسترد کردی تھی اورالٹا یہ کہا تھا کہ عراق میں معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم (نیٹو) کے مشن کی توسیع پرغورکیا جارہا ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند