تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سال 2022ء دبئی میں رئیل اسٹیٹ کے عروج کا سال ہوگا: چیئرمین داماک
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 2 رجب 1441هـ - 26 فروری 2020م
آخری اشاعت: جمعہ 28 جمادی الاول 1441هـ - 24 جنوری 2020م KSA 07:16 - GMT 04:16
سال 2022ء دبئی میں رئیل اسٹیٹ کے عروج کا سال ہوگا: چیئرمین داماک
العربیہ ڈاٹ نیٹ

متحدہ عرب امارات کی رئیل اسٹیٹ کی بڑی فرم 'داماک پراپرٹیز' کے چیئرمین حسین سجانی نے پیش گوئی ہے کہ سال 2022ء دبئی میں جائیداد کی قیمتوں کے حوالے سے ایک بار پھر غیر معمولی اضافے کی توقع ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دبئی میں رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کے بنیادیں مضبوط ہیں۔

سجانی نے "سوئس" شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر "العربیہ" کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ دبئی ریل اسٹیٹ مارکیٹ میں زیادہ پیشکشیں حالیہ حکومتی اقدامات کے اثرات کو کم کردیں گی۔

ایک سوال کے جواب میں سجانی نے کہا کہ دبئی حکومت کی طرف سے رئیل اسٹیٹ کے حوالے سے اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔ اسی سلسلے میں الشیخ مکتوم بن محمد بن راشد آل مکتوم کی سربراہی میں امارہ دبئی میں "سپریم کمیٹی برائے رئیل اسٹیٹ پلاننگ" تشکیل دی گئی۔ اس کمیٹی نے سرمایہ کاروں سے ملاقاتیں شروع کی ہیں۔

اُنہوں نے وضاحت کی کہ حکومت نے دو محوروں پر کام کیا۔ سب سے پہلے رئیل اسٹیٹ کی قیمتوں میں کمی کی۔ جب کہ عملی طورپر سرکاری کمپنیوں نےمارکیٹ میں سرمایہ کاری کا غازکیا۔

انہوں نے ایک اور اہم محور کی طرف بھی اشارہ کیا کہ رئیل اسٹیٹ کی طلب میں اضافہ، غیر ملکیوں کے لیے پانچ سالہ وزٹ ویزا اور دس سالہ ویزا متعارف کرانے کے اعلانات، ایسے اقدامات ہیں جنہوں نے دبئی میں رئیل اسٹیٹ کی طلب میں اضافہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پچھلے سال رئیل اسٹیٹ کے نئے منصوبوں میں کمی دیکھی گئی۔ رئیل اسٹیٹ مارکیٹ نچلی سطح پر پہنچ چکی ہے۔ ہمیں اسے عروج پر لے جانے کے لیے مزید دو سال درکار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مارکیٹ میں رئیل اسٹیٹ سرگرمیوں میں کمی کے باوجود اب اس کی بنیادیں اب بھی مضبوط ہیں۔ پچھلے سال میں اس کی فروخت 20 ہزار یونٹ سے بھی زیادہ رہی۔ موجودہ قیمتوں کے مطابق جائیدادیں خریدنے کا ایک اچھا موقع ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سال 2018ء کے پہلے نو ماہ میں'داماک' کی آمدنی پانچ ارب 20 کروڑ درہم تھی جو کہ سال 2019ء کے اس عرصے میں کم ہو کر 2 ارب 80 کروڑ درہم پر آگئی۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند