تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایردوآن کی معاہدے کی خلاف ورزی، ترک فوجیوں کی لیبیا آمد جاری
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 13 شعبان 1441هـ - 7 اپریل 2020م
آخری اشاعت: ہفتہ 29 جمادی الاول 1441هـ - 25 جنوری 2020م KSA 06:55 - GMT 03:55
ایردوآن کی معاہدے کی خلاف ورزی، ترک فوجیوں کی لیبیا آمد جاری
ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن
دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کی طرف سے لیبیا میں عدم مداخلت سے متعلق طے پائے برلن معاہدے کی خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں۔ ترکی کی طرف سے لیبیا میں قومی وفاق حکومت کی مدد کے لیے مسلسل فوجی بھیجے جا رہے ہیں۔

کل جمعہ کو ترک صدر نے ایک بیان میں کہا کہ لیبیا میں فائز السراج کی قیادت میں قائم قومی وفاق حکومت کی معاونت کے لیے ترک فوج کی تعیناتی جاری رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ترک فوجی افسران لیبیا میں قومی وفاق کی وفادار فورسز کو عسکری تربیت فراہم کررہے ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

خیال رہے کہ حال ہی میں برلن میں ہونے والی امن کانفرنس میں یہ طے کیا گیا تھا کہ کوئی دوسرا ملک لیبیا میں عسکری مداخلت نہیں کرے گا۔ ترکی نے اس معاہدے کے آرٹیکل پانچ سے اتفاق کیا تھا جس میں قومی وفاق حکومت کے لیے کسی قسم کی فوجی کمک نہ بھیجنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

ایردوآن نے جرمن چانسلر نجیلا میرکل سے بات چیت کے بعد استنبول میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جن ممالک نے اتوار کے روز لیبیا میں برلن سربراہی اجلاس میں شرکت کی وہ لیبیا کے نیشنل آرمی کے سربراہ خلیفہ حفتر کی مدد بند کریں۔

روسی انفارمیشن ایجنسی نے ترک وزیر خارجہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ جب تک لیبیا میں جنگ بندی برقرار ہے اس وقت تک ان کا ملک مزید فوجی مشیروں کو لیبیا بھیجنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔

خیال رہے کہ لیبیا میں اقوام متحدہ کے مندوب غسان سلامہ نے ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ترک صدر نے دوسروں کی طرح برلن کانفرنس کے بیان کے پانچویں آئٹم میں بھی وعدہ کیا تھا کہ وہ لیبیا میں مداخلت نہیں کریں گے اور نہ ہی فوج بھیجیں گے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا وہ لیبیا بھیجے گئے 2000 شامی جنگجوئوں کی واپسی کے لیے اقدامات کریں گے؟۔ توان کا کہنا تھا کہ 2000 شامی جنگجو بلکہ ہزاروں دوسرے غیرملکی جنگجوئوں کو لیبیا سے باہر نکالنا ہوگا۔

قابل ذکر ہے کہ ترکی نے شام کے علاقوں سے لائے گئے دوہزار کے قریب جنگجو قومی وفاق حکومت کی مدد کے لیے لیبیا بھیجے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند