تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
اسرائیلی پاسپورٹ کے حاملین سعودی عرب نہیں آسکتے:وزیرخارجہ شہزادہ فیصل
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 25 جمادی الثانی 1441هـ - 20 فروری 2020م
آخری اشاعت: پیر 1 جمادی الثانی 1441هـ - 27 جنوری 2020م KSA 22:15 - GMT 19:15
اسرائیلی پاسپورٹ کے حاملین سعودی عرب نہیں آسکتے:وزیرخارجہ شہزادہ فیصل
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان ۔ فائل تصویر
العربیہ ڈاٹ نیٹ

سعودی عرب کے وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے واضح کیا ہے کہ اسرائیلی پاسپورٹ کے حامل افراد کو مملکت میں خوش آمدید نہیں کہا جائے گا۔

امریکی نشریاتی ادارے کیبل نیوز نیٹ ورک ( سی این این) نے سوموار کے روز سعودی وزیر خارجہ کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ ’’ہماری پالیسی طے شدہ ہے،ہمارے ریاستِ اسرائیل سے تعلقات استوار نہیں ہیں اور موجودہ صورت حال میں اسرائیلی پاسپورٹ کے حاملین مملکت میں نہیں آسکتے ہیں۔‘‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’’جب فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان امن معاہدہ طے پاجائے گا تو میرے خیال میں اسرائیل کو خطے کے امور میں شریک کار کرنے کا معاملہ بھی زیرغور آئے گا۔‘‘

ان کے اس بیان سے ایک روز قبل ہی اسرائیل نے مذہبی اور کاروباری مقاصد کے لیے اپنے شہریوں کو سرکاری طور پر سعودی عرب جانے کی اجازت دینے کا اعلان کیا تھا۔

اسرائیلی وزیر داخلہ الریح دیری نے اتوار کو اپنے شہریوں کے سعودی عرب جانے کے لیے حکم نامے پر دست خط کردیے تھے۔ان کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ’’اس اقدام کی سکیورٹی اور سفارتی خدمات کے محکموں کے ساتھ رابطے کے ذریعے منظوری دی گئی ہے۔اب مسلمان عازمینِ حج وعمرہ کو مذہبی مقاصد کے لیے سعودی عرب جانے کی اجازت ہوگی‘‘۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اسرائیل اپنے دوسرے شہریوں کو بھی کاروباری اجلاسوں میں شرکت یا سرمایہ کاری کے مقاصد کے لیے نوّے روز تک سعودی عرب میں جانے کی اجازت دے گا۔تاہم وزارت داخلہ نے وضاحت کی تھی کہ تجارتی ویزے پر سفر کرنے والوں کے پاس سعودی عرب میں داخلے کے لیے وہاں کے کسی سرکاری ذریعے کا جاری کردہ دعوت نامہ ہونا چاہیے۔

واضح رہے کہ اس وقت اسرائیل کے صرف دو عرب ممالک اردن اور مصر کے ساتھ الگ الگ امن معاہدوں کے تحت سفارتی تعلقات استوار ہیں لیکن اس کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر قبضے کی وجہ سے باقی عرب ممالک کے ساتھ تعلقات استوار نہیں ہیں اور وہ اس سے 1967ء کی جنگ سے قبل کی سرحدوں میں واپس جانے اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کو خالی کرنے کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں۔

دریں اثناء امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس طویل عرصے سے التوا کا شکار اپنے مشرقِ اوسط امن منصوبے کا منگل کو گرینچ معیاری وقت کے مطابق دوپہر 1700 ( جی ایم ٹی) بجے اعلان کرے گا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند