تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
القدس ملیشیا نے شام میں احتجاج کچلنے میں مدد کی تھی: پاسداران انقلاب کا اعتراف
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 25 جمادی الثانی 1441هـ - 20 فروری 2020م
آخری اشاعت: منگل 2 جمادی الثانی 1441هـ - 28 جنوری 2020م KSA 07:23 - GMT 04:23
القدس ملیشیا نے شام میں احتجاج کچلنے میں مدد کی تھی: پاسداران انقلاب کا اعتراف
قاسم سلیمانی اور بشار الاسد کے درمیان تہران میں ہونے والی ایک ملاقات
العربیہ ڈاٹ نیٹ ۔ صالح حمید

ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کی طرف سے پہلی بار یہ اعتراف کیا گیا ہے کہ ایران کی سمندر پار عسکری کارروائیوں میں سرگرم القدس ملیشیا نے سنہ 2011ء میں شام میں حکومت کے خلاف شروع ہونے والی احتجاجی تحریک کچلنے میں اسد رجیم کی مدد کی تھی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق پاسداران انقلاب کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سنہ 2011ء کو شام میں حکومت کے خلاف اٹھنے والی تحریک کو دبانے کے لیے فیلق القدس نے مدد کی تھی۔ تنظیم کی طرف سے شامی فوج کے اہلکاروں کی تربیت کی گئی اور سڑکوں پر ہونے والے احتجاج کو روکنے کے لیے لاٹھیاں اور دیگر آلات فراہم کیے گئے تھے۔

خیال رہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب نے یہ تسلیم کیا ہے کہ اس نے شام میں حکومت بچانے میں مدد فراہم کی تھی۔ اس سے قبل ایران یہ دعویٰ کرتا رہا ہے کہ اس نے شام میں مداخلت اس وقت شروع کی جب سنہ 2012ء میں شام میں عسکریت پسند گروپوں نے حکومت کے خلاف حملے شروع کیے تھے۔

ایران کی 'فارس' نیوز ایجنسی نے پاسداران انقلاب کی جاری کردہ ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مارچ 2011ء کو فیلق القدس کے سربراہ قاسم سلیمانی نے عسکری ماہرین شام منتقل کرنا شروع کیے تاکہ سڑکوں پر ہونے والے پر تشدد احتجاج کو روکنے میں مدد فراہم کی جاسکے۔

'جنگجو بلا حدود' کے عنوان سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی عسکری ماہرین شام میں سیکیورٹی فورسز کو مظاہرین پر قابو پانے کی تربیت فراہم کرنے کے لیے اس وقت بھیجے گئے جب احتجاج کا ابھی آغاز ہوا۔ شامی فوج کو انٹیلی جنس اور سیکیورٹی آلات اور ضروری ساز و سامان بھی فراہم کیا گیا۔

رپورٹ میں اس امر کی وضاحت کی گئی ہے کہ فیلق القدس نے سنہ 2011ء اور 2012ء کے دوران شام میں کیسے اپنی سرگرمیاں انجام دیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سنہ 2013ء کو ایران نے باقاعدہ طور پر شام میں 'داعش' کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کیا۔ یہ اس وقت ہوا جب یہ یقین ہوگیا کہ شام میں جاری احتجاج کی تحریک میں 'داعش' اور دیگر انتہا پسند گروپوں کے ہاتھوں یرغمال ہوگئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شام میں جنگی آلات اور ہتھیاروں کی فراہمی فیلق القدس کی سرگرمیوں کا حصہ تھی۔

شام میں پولیس کے پاس بحران سے نمٹنے کے لیے خاطر خواہ آلات، ہتھیار اور اسلحہ نہیں تھا۔ ہتھیاروں اور آلات کی کمی حکومت مخالف تحریک دبانے میں مشکلات کا سبب بن رہی تھی۔ اس لیے ایران نے فیلق القدس کے ذریعے شام میں فوج کو احتجاجی تحریک کچلنے کے لیے ہر نوعیت کا ضروری سامان فراہم کیا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند