تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
16 ممالک کے سفیروں کا عراق میں مظاہرین کی ہلاکتوں کی تحقیقات کا مطالبہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 5 رجب 1441هـ - 29 فروری 2020م
آخری اشاعت: منگل 2 جمادی الثانی 1441هـ - 28 جنوری 2020م KSA 07:13 - GMT 04:13
16 ممالک کے سفیروں کا عراق میں مظاہرین کی ہلاکتوں کی تحقیقات کا مطالبہ
بغداد ۔ ایجنسیاں

عراق میں جاری احتجاج کے دوران مظاہرین کی ہلاکتوں کے بڑھتے واقعات پرعالمی برادری کی تشویش میں بھی مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ عراق میں تعینات 16 ممالک کے سفراء نے بغداد حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اکتوبر 2019ء سے جاری مظاہروں کے دوران پر امن مظاہریوں کی ہلاکتوں کی تحقیقات کرائے اور مزید ہلاکتوں کا سلسلہ بند کیا جائے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق عراق میں متعین امریکا، برطانیہ اور فرانس سمیت 16 ممالک کے سفیروں نے مظاہرین کے خلاف طاقت کا اندھا دھند استعمال روکنے اور سیکڑوں مظاہرین کی ہلاکتوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

ان ممالک نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ بغداد، الناصریہ، البصرہ اور دیگر شہروں میں ہونے والے احتجاج کے دوران عراقی پولیس اور دیگر سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی طرف سے پر امن مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا بے تحاشا استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں کئی مظاہرین ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔ مظاہرین کو خوف زدہ کرنے، ہراساں کرنے اور انہیں اغواء کرنے کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ عراقی حکومت کو ان واقعات کی روک تھام کے لیے فوری اور موثر حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔

ڈیڑھ درجن کے قریب ممالک نے عراق میں احتجاج کے پرامن حق کو یقینی بنانے اور پر امن مظاہرین کو ہرممکن تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ چار ماہ کے دوران عراق میں 500 مظاہرین ہلاک اور ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہوچکے ہیں۔ مظاہرین کی ہلاکتوں کے واقعات میں اضافہ باعث تشویش ہے۔

ادھر عراق میں کل سوموار کے روز ایک سیکیورٹی ذریعے نے بتایا کہ الحبوبی اسکوائرمیں ہونے والے احتجاج کے دوران نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں دو مظاہرین ہلاک اور 18 زخمی ہوگئے جب کہ ذی قارکے علاقے میں فائرنگ سے 9 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند