تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
قطر کے سابق وزیر اقتصادیات سمیت حکمراں خاندان کے 5 افراد نے مالٹا کی شہریت حاصل کی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 2 رجب 1441هـ - 26 فروری 2020م
آخری اشاعت: جمعہ 19 جمادی الثانی 1441هـ - 14 فروری 2020م KSA 13:02 - GMT 10:02
قطر کے سابق وزیر اقتصادیات سمیت حکمراں خاندان کے 5 افراد نے مالٹا کی شہریت حاصل کی
محمد بن احمد بن جاسم آل ثانی
العربیہ ڈاٹ نیٹ

قطر کے حکمراں خاندان کے 5 افراد کا نام 3500 سے زیادہ غیر ملکی افراد کی اُس فہرست میں شامل ہے جنہوں نے مالٹا کی شہریت حاصل کی۔ اس بات کا انکشاف مالٹا کے سرکاری اخبار Times of Malta کی حالیہ رپورٹ میں کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق مذکورہ فہرست میں شامل افراد نے بر بنائے قانون شہریت حاصل کی یا پھر اس متنازع پروگرام کے ذریعے جس میں 11.5 لاکھ یورو کے بدلے پاسپورٹ کی پیش کش کی گئی۔ البتہ دونوں طرح سے شہریت حاصل کرنے والوں میں کوئی فرق روا نہیں رکھا گیا۔

مذکورہ اخبار کے مطابق "آل ثانی" کے خطاب سے قطر کے حکمراں خاندان کے جن پانچ افراد کے نام فہرست میں سامنے آئے وہ یہ ہیں :

محمد بن احمد بن جاسم آل ثانی، ان کی اہلیہ ہنادی بنت ناصر آل ثانی اور ان کے تین بچے جاسم، جودی اور لیانا ...!

محمد احمد نے دسمبر 2003 سے مارچ 2006 تک قطر کے معیشت و تجارت کے وزیر کے منصب پر کام کیا۔ وہ 17 برس قطر میں تیل اور گیس کی صںعت سے وابستہ کمپنیوں میں مختلف عہدوں پر فائز رہے۔ ان میں قطر میں تیل اور گیس کی 3 معروف سرکاری کمپنیاں شامل ہیں۔

سال 2016 میں محمد احمد اور ان کی اہلیہ نے مالٹا میں ایک کمپنی قائم کی۔ اس کمپنی کو Monifa Wings کے نام سے رجسٹر کرایا گیا۔ یہ کمپنی فضائی ٹرانسپورٹ کی خدمات پیش کرنے ، طیاروں کی لیز اور کرائے پر فضائی پروازیں چلانے کی سرگرمیوں سے متعلق تھی۔

محمد احمد کی اہلیہ ہنادی "الوعب سٹی" پراپرٹی پروجیکٹ کی چیف ایگزیکٹو اور بانی ہیں۔ اس منصوبے کی مجموعی لاگت 3.2 ارب ڈالر تک ہے۔

مالٹا میں "انفرادی سرمایہ کار پروگرام" سال 2014 میں متعارف کرایا گیا تھا۔ اس پروگرام کے ذریعے صاحب ثروت غیر ملکیوں کو پیش کش کی گئی کہ وہ 650,000 یورو نقد، 350,000 يورو کی جائیداد اور کم از کم 150,000 یورو کی سرمایہ کاری کے ساتھ مالٹا کا پاسپورٹ حاصل کر سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ شہریت کے لیے درخواست دینے والوں کے ناموں میں عدم شفافیت کے سبب یہ پروگرام مالٹا کے عوام میں متنازع بن گیا۔

مالٹا کی پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی ایک خاتون رکن شہریت پروگرام سے مستفید ہونے والوں کی ایک فہرست پیش کر چکی ہیں۔ اس فہرست میں ایک روسی اسرائیلی کاروباری شخصیت کا نام بھی شامل ہے جس کو امریکا میں کروڑوں ڈالروں کے غبن کے الزام کا سامنا ہے۔ اس طرح کے افراد نے دیگر ممالک میں عدالتی کارروائی سے بچنے یا پھر اپنی غیر قانونی دولت کو اسمگل کرنے کے لیے شہریت حاصل کی۔ خاتون رکن پارلیمنٹ کے مطابق شہریت کے لیے درخواست دینے والوں کی شناخت کی جانچ میں تساہل برتا گیا جس سے ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند