تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
حماس کی سوشل میڈیا پر اسرائیلی فوجیوں‌ کو پھنسانے کی چال کامیاب
لڑکیوں‌کے بھیس میں‌ صہیونی فوجیوں کو دوستی کے چنگل میں‌پھنسانے کا اعتراف
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 14 شعبان 1441هـ - 8 اپریل 2020م
آخری اشاعت: پیر 22 جمادی الثانی 1441هـ - 17 فروری 2020م KSA 07:00 - GMT 04:00
حماس کی سوشل میڈیا پر اسرائیلی فوجیوں‌ کو پھنسانے کی چال کامیاب
لڑکیوں‌کے بھیس میں‌ صہیونی فوجیوں کو دوستی کے چنگل میں‌پھنسانے کا اعتراف
دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

فلسطینی تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت'حماس' نے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز کو استعمال کرتے ہوئے اسرائیلی فوجیوں کے موبائل ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ دوسری طرف اسرائیلی حکام نے بھی حماس کی طرف سے سوشل میڈیا کےذریعے فوجیوں کے بارے میں‌معلومات کے حصول کی کوشش کا اعتراف کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اسرائیلٰی فوج کی طرف سے اعتراف کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر خوبصورت اور پرکشش لڑکیوں کی تصاویر پرمبنی اکائونٹس سے اسرائیلی فوجیوں کو دوستی کا پیغام بھیجا جاتا اور 'فرینڈ ریکوسٹ' قبول کرنے کے بعد فوجیوں کو 'ڈرٹی سافٹ ویئر' ڈائون لوڈ کرنے کو کہا جاتا تاکہ اس کے ذریعے حماس متعلقہ فوجی کے بارے میں اہم معلومات حاصل کرسکے۔ حماس نے اس ھربے کی مدد سے نہ صرف اسرائیلی فوجیوں‌بلکہ دیگر اسرائیلی شہریوں کو بھی اپنے چنگل میں‌پھنسانے کی کوشش کی ہے۔ تاہم صہیونی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے حماس کی سوشل میڈیا کے ذریعے فوجیوں کو پھنسانے کی کوشش ناکام بنادی ہے جب کہ حماس کا دعویٰ کے کہ وہ اسرائیلی فوجیوں کے اہم ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسرائیلی فوج کے ترجمان کرنل جوناتھن کونریکس نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ حالیہ مہینوں میں درجنوں فوجیوں کے فون ہیک ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جلد ہی ہمیں معلوم ہوگیا کہ اس طرح کے حربے پیچھے کسی جنگجو گروپ کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔ تحقیقات کرنے پر پتا چلا کہ یہ سب کچھ حماس کررہی ہے۔

کرنل کونریکس نے یہ بھی واضح کیا کہ حماس کی جانب سے سوشل میڈیا پر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے فوجیوں کو چنگل میں پھنسانے یہ تیسری کوشش ہے۔ اس سے قبل گذشتہ برس جولائی میں ایسی ہی ایک پیچیدہ مہم سامنے آئی تھی جس میں اسرائیلی فوجیوں‌ کےموبائل فون اور دیگر معلومات کے حصول کی کوشش کی گئی تھی۔

کونریکس نے انکشاف کیا کہ حماس نے متعدد سماجی پلیٹ فارمز ، بشمول واٹس ایپ ، فیس بک ، انسٹاگرام اور ٹیلیگرام کا استعمال کرتے ہوئے لڑکیوں کی تصاویر کی ڈی پی والی آئی ڈیز سے فوجیوں سے رابطہ کیا۔

ترجمان نے واضح کیا ایک آئی ڈی سے ایک خود کو ایک نئی تارک وطن خاتون ظاہر کرنے والے شخص نے کہا کہ اس کی عبرانی زبان کم زور ہے اور وہ سیکھنا چاہتی ہے۔ براہ راست کال کے بجائے وہ بعض اوقات یہ بہانہ کرتا کہ اسے سماعت میں دشواری ہے۔ اس لیے وہ صرف تحریری مکالمہ چاہتی ہے۔ اس دوران وہ اپنی متعدد تصاویر بھی شیئر کرتا۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ حماس کی سابقہ کوششوں کے مقابلے میں تازہ کوشش سوشل انجینئرنگ کی سطح بہت اونچی ، نفیس اور زیادہ موثر ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ حماس کے عناصر سوشل میڈیا کے استعمال کی اپنی مہارت میں اضافہ کر رہے ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند