تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ترکی کی فوج اور اجرتی جنگجوؤں کے انخلا کے مقابل فائر بندی پر تیار ہوں: خلیفہ حفتر
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 8 شعبان 1441هـ - 2 اپریل 2020م
آخری اشاعت: جمعہ 26 جمادی الثانی 1441هـ - 21 فروری 2020م KSA 12:15 - GMT 09:15
ترکی کی فوج اور اجرتی جنگجوؤں کے انخلا کے مقابل فائر بندی پر تیار ہوں: خلیفہ حفتر
جنرل خلیفہ حفتر
دبئی – العربیہ ڈاٹ نیٹ

لیبیا کی فوج کے سربراہ جنرل خلیفہ حفتر کا کہنا ہے کہ وہ مقررہ شرائط کے پورے ہونے کی صورت میں لیبیا میں فائر بندی کے لیے تیار ہیں۔ جمعے کے روز روسی ذرائع ابلاغ کی ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ مذکورہ شرائط میں ترکی کی فوج اور اجرتی جنگجوؤں کا اںخلا شامل ہے۔

حفتر کے مطابق فائز السراج کے زیر قیادت وفاق حکومت نے جنیوا مذاکرات میں شرکت کو معلق کر دیا کیوں کہ وہ انقرہ اور دوحہ سے احکامات وصول کرتی ہے۔

جنرل خلیفہ حفتر نے باور کرایا کہ دوسرے فریق کی جانب سے جنگ بندی کی عدم پاسداری اور مسلح ٹولیوں کی جانب سے اس کی مسلسل خلاف ورزیوں کے سبب لیبیا کی فوج کا پیمانہ لبریز ہوتا شروع ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلح افواج طرابلس کی صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے تمام بین الاقوامی فریقوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ جب تک عالمی برادری اور برلن کانفرنس میں شریک ممالک لیبیا پر ترکی کے قبضے کے حوالے سے اپنی ذمے داریاں پوری نہیں کرتے ،،، لیبیا کی فوج تمام امکانات کے لیے تیار ہے۔

حفتر نے زور دے کر کہا کہ اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور برلن کانفرنس کے ممالک شامی اور تُرک اجرتی جنگجوؤں اور مختلف نوعیت کے ہتھیاروں کی روزانہ کی بنیاد پر طرابلس منتقلی روکنے کے ذمے دار ہیں۔ ان کے مطابق ایردوآن اور فائز السراج کی جانب سے عدم پاسداری کا سلسلہ جاری رہنے پر لیبیا کی فوج ہاتھ باندھ کر نہیں بیٹھے گی۔

لیبیا کی فوج کے سربراہ کا کہنا تھا کہ فائز السراج کی وفاق حکومت کے پاس اپنے فیصلے کرنے کا حق نہیں ہے .. یہ حکومت اندرون ملک دہشت گرد ملیشیاؤں اور گروپوں جب کہ بیرون ملک ترکی اور قطر کے ہاتھوں یرغمال بنی ہوئی ہے۔ اس بات کا ثبوت ایردوآن کا وہ بیان ہے جس میں انہوں نے باور کرایا کہ جنیوا بات چیت سے وفاق حکومت کے نکل جانے کی ضرورت ہے۔

حفتر کے مطابق اقوام متحدہ کی اُن تمام مثبت کوششوں کا ساتھ دیا جائے گا جن کے ذریعے لیبیا میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس مشن میں کامیابی کے لیے اقوام متحدہ اور ان کے خصوصی ایلچی غسان سلامہ کو سپورٹ کرتے ہیں۔

لیبیا میں اقوام متحدہ کے مشن کے ترجمان جین العلم نے جمعرات کے روز فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ لیبیا میں دونوں متحارب فریقوں کے درمیان جنیوا میں عسکری مذاکرات کا دوبارہ آغاز ہو گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہونے والی یہ بات چیت بالواسطہ نوعیت کی ہے۔ اس کا مقصد لیبیا میں مستقل فائر بندی کا اعلان ہے۔

یاد رہے کہ طرابلس کی بندرگاہ پر ترکی کے بحری جہاز کو بم باری کا نشانہ بنائے جانے کے بعد وفاق حکومت نے مذکورہ مذاکرات سے علاحدگی کا اعلان کیا تھا۔ لیبیا کی فوج کے مطابق نشانہ بنایا جانے والا ترکی کا بحری جہاز ہتھیاروں سے لدا ہوا تھا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند